نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 125 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 125

خاص اور اہم حالتوں کا مالک ہے۔عام طور پر تو اس کے معنی قیامت کے دن کا مالک کئے جاتے ہیں لیکن جیسا کہ لغت سے ظاہر ہے۔یہ معنی محض تفسیری ہیں لغوی نہیں۔دین کے ایک معنی جز اسزا کے ہیں۔اور جزا سزا کا کامل مظاہرہ چونکہ قیامت کے دن ہو گا اس لئے مفسرین نے جزا سزا کے معنوں کی بنیاد پر اس آیت کے یہ معنی کر دئیے کہ قیامت کے دن کا مالک ہے۔حالانکہ لغت کے رو سے اس آیت کے مختلف معنی ہوتے ہیں اور سب کے سب قرآنی مطالب کے مطابق اور درست ہیں۔پس کوئی وجہ نہیں کہ ایک معنوں کو تو لے لیا جائے اور دوسروں کو چھوڑ دیا جائے۔ملِكِ يَوْمِ الدین سے یہ مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس دُنیا کا مالک نہیں ہے بلکہ اگر اس آیت کے معنی قیامت کے دن کے مالک کے کئے جائیں تب بھی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس دن ظاہری طور پر بھی کوئی مالک نہ ہو گا جیسا کہ فرمایا وَمَا أَدْرَكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ ثُمَّ مَا ادْرُكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا وَالْاَ مُرُ يَوْمَئِذٍ لِلهِ (انفطار 20) یعنی تم کو کیا معلوم کہ یوم الدین کیا ہے۔یوم الدین وہ دن ہے کہ کوئی شخص دوسرے کے کسی کام نہ آ سکے گا۔اور صرف خدا تعالیٰ کا حکم جاری ہوگا۔پس مالک سے مراد یہ ہے کہ اس دُنیا میں جو ظاہر میں بادشاہ اور حاکم اور مالک نظر آتے ہیں۔یہ سلسلہ اگلے جہان میں ختم ہو جائے گا۔اور یہ مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس جہان کا مالک نہیں ہے۔إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ الحمد الله سے لے کر ملِكِ يَوْمِ الدّین تک کی عبارت سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ بندہ کی نظر سے اوجھل ہے اور وہ اس کی تعریف کر رہا ہے۔لیکن اِيَّاكَ نَعْبُدُ سے یک دم خدا تعالیٰ کو مخاطب کر لیا گیا ہے بعض نادانوں نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ یہ حسنِ کلام کے خلاف ہے۔حالانکہ یہ حسن کلام کے خلاف نہیں بلکہ حسن کلام کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات وراء الوراء ہے وہ بندہ کو نظر نہیں آتی۔اس کی صفات کے ذریعہ سے 125