نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1185 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1185

ہیں۔لوگ اپنے خطوں میں لکھتے ہیں کہ ہمیں فلاں مشکل ہے، فلاں پریشانی ہے، کوئی دعا اور ذکر بتائیں جس کا ورد ہم کرتے رہا کریں اور ہماری مشکلات اور پریشانیاں دُور ہوں۔عموماً لوگوں کو میں یہی لکھتا ہوں کہ نمازوں کی طرف توجہ دیں۔سجدوں میں دعائیں کریں۔نماز میں دعائیں کریں۔اور اپنے خدا تعالیٰ سے مدد مانگیں۔لیکن آج میں ایک ذکر کے بارے میں بھی بتانا چاہتا ہوں جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے اتری ہوئی دعائیں بھی ہیں اور جس کے مطالب پر غور کر کے پڑھنے سے جہاں انسان اللہ تعالیٰ کی توحید کا ادراک حاصل کرتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور پناہ میں بھی آتا ہے اور ہر قسم کے شرور سے بھی محفوظ رہتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف یہ کہ خود با قاعدگی سے روزانہ رات کو سونے سے پہلے ان آیات اور دعاؤں کو پڑھا کرتے تھے بلکہ صحابہ کو بھی پڑھنے کی تلقین فرماتے تھے اور بہت ساری جگہوں پر ان دعاؤں کی ان آیات کی اہمیت بیان فرمائی۔آپ نے اس کے فوائد بیان فرمائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے ذاتی عمل کے بارے میں اس سلسلہ میں روایت آتی ہے۔روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سوتے وقت آیتہ الکرسی، سورۃ اخلاص، سورۃ فلق اور سورۃ الناس یعنی قرآن کریم کی جو آخری تین سورتیں ہیں، یہ اور آیۃ الکرسی تین دفعہ پڑھ کر ہاتھوں پر پھونکتے اور پھر اپنے ہاتھوں کو جسم پر اس طرح پھیر تے کہ سر سے شروع کر کے جہاں تک جسم پر ہاتھ جا سکتا جسم پر پھیرتے۔پس جس کام کو آپ نے باقاعدہ جاری رکھا یا با قاعدگی سے کیا تو یہ آپ کی سنت بنی اور اس کام کو ہر مسلمان کو کرنا چاہیئے اور ہم احمدی جن کی اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر سنت پر عمل کرنے کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مزید رہنمائی فرمائی ہے ہمیں اس پر عمل کرنے کی خاص کوشش کرنی چاہئے اور خاص طور پر ان حالات میں جن میں سے ہم گزر رہے ہیں دعاؤں اور نمازوں اور اذکار کی طرف خاص طور پر نہ صرف اپنی ذاتی روحانی اور دنیاوی ضروریات کے لئے توجہ دینی چاہئے بلکہ جماعتی فتنوں اور فسادوں اور حاسدوں 1185