نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1161 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1161

جیسا کہ بعض انسان جو شیطان کی طرح ہوتے ہیں ، لوگوں کے دلوں میں بُرے خیالات ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔پس فقط اُن کی بات سننے سے اور ر ڈ کر دینے سے کوئی گنہگار نہیں ہو سکتا۔ہاں وہ گنہگار ہوتا ہے جو ان کی بات کو مان لیتا اور اس پر عمل کر لیتا ہے۔سورۃ الناس قرآن شریف کی سب سے آخری سورۃ ہے اور اس کا مضمون آخری زمانہ میں ایک بڑے فتنہ سے خدا تعالی کی پناہ مانگنے کا حکم دیتا ہے۔وہ فتنہ خناس کا ہے جو کہ لوگوں کے دلوں میں قسم قسم کے وساوس ڈال کر ان کو پیچھے ہٹانے کی کوشش کرے گا۔اس سورت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آخری زمانہ جنگ کا زمانہ ہوگا۔اور اسلام سے لوگوں کی رُوگردانی کرانے کے واسطے کوئی لڑائی اور ظاہری جنگ کی کارروائی نہ ہوگی۔جیسا کہ کیا جاتا تھا۔بلکہ صُدُورِ النّاس پر بذریعہ وساوس ہوگا۔اور وہ وسوسہ ڈالنے والے خناس دو قسم کے ہوں گے۔ایک تو پادری لوگ جن کے وساوس موٹے رنگ کے ہر طرح کے کذب اور بہتان کے ساتھ ہیں۔یہ خناس تو ناس میں سے ہے۔لیکن ایک بڑا خناس جوشئر میں اس سے زیادہ سخت ہے۔لیکن اپنی شرارت میں کسی قدر مخفی ہے اس واسطے اس کو جن کہا گیا ہے وہ اس زمانہ کے جھوٹے فلسفی اور جزوی سائنس دان ہیں جو حقیقی فلسفہ اور سائنس سے بے خبر ہیں اور تعلیم یافتہ گروہ کو خفیہ رنگ میں دہریت کی طرف کھینچ کر لے جا رہے ہیں۔حالانکہ بظاہر مذہب سے اپنے آپ کو بے تعلق ظاہر کرتے ہیں۔مگر باطن میں مذہب کے سچے اصول کو اکھاڑنے کے درپے ہیں۔اس سورۃ شریفہ میں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آخری زمانہ کا فتنہ محض دعا کے ذریعہ سے ڈور ہوگا۔چنانچہ اس کی تائید میں حدیث شریف میں آیا ہے کہ کفار مسیح موعود کے دم سے مریں گے۔اور حضرت مرزا صاحب سے میں نے بار ہا سنا ہے۔آپ فرمایا کرتے ہیں کہ اس قد رفتنہ کامٹانا ظاہری اسباب کے ذریعہ سے نہیں ہو سکتا۔ہمارا بھروسہ صرف ان دعاؤں پر ہے جو کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور میں کرتے ہیں۔خداوند تعالیٰ ہماری دعاؤں کو سنے گا اور وہ خود ہی ایسے سامان 1161