نُورِ ہدایت — Page 1159
تب خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت اور اپنی مانند بناویں۔دیکھو توریت باب اڈل آیت 26۔اور پھر کتاب دانی ایل باب نمبر 12 میں لکھا ہے اور اُس وقت میکائیل ( جس کا ترجمہ ہے خدا کی مانند ) وہ بڑا سردار جو تیری قوم کے فرزندوں کی حمایت کے لئے کھڑا ہے اُٹھے گا۔( یعنی مسیح موعود آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا ) پس میکائیل یعنی خدا کی مانند۔در حقیقت توریت میں آدم کا نام ہے اور حدیث نبوی میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے کہ خدا نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔پس اس سے معلوم ہوا کہ مسیح موعود آدم کے رنگ پر ظاہر ہوگا اسی وجہ سے آخری ہزار ششم اس کے لئے خاص کیا گیا کیونکہ وہ بجائے روز ششم ہے یعنی جیسا کہ روز ششم کے آخری حصے میں آدم پیدا ہوا اسی طرح ہزار ششم کے آخری حصہ میں مسیح موعود کا پیدا ہونا مقدر کیا گیا۔اور جیسا کہ آدم مخاش کے ساتھ آزمایا گیا جس کو عربی میں خناس کہتے ہیں جس کا دوسرا نام دجال ہے ایسا ہی اس آخری آدم کے مقابل پر مخاش پیدا کیا گیا تا وہ زن مزاج لوگوں کو حیات ابدی کی طمع دے جیسا کہ حوا کو اس سانپ نے دی تھی جس کا نام توریت میں مخاش اور قرآن میں خناس ہے لیکن اب کی دفعہ مقدر کیا گیا کہ یہ آدم اُس مخاش پر غالب آئے گا۔غرض اب چھ ہزار برس کے اخیر پر آدم اور شخاش کا پھر مقابلہ آپڑا ہے اور اب وہ پُرانا سانپ کاٹنے پر قدرت نہیں پائے گا جیسا کہ اول اُس نے حوا کو کاٹا اور پھر آدم نے اس زہر سے حصہ لیا بلکہ وہ وقت آتا ہے کہ اس سانپ سے بچے کھیلیں گے اور وہ ضرررسانی پر قادر نہیں ہوگا۔قرآن شریف میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ اس نے سورہ فاتحہ کو الضالین پر ختم کیا اور قرآن کو خناس پر۔تا دانشمند انسان سمجھ سکے کہ حقیقت اور روحانیت میں یہ دونوں نام ایک ہی ہیں۔(تحفہ گولڑو یہ ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 272 تا 275 حاشیہ) قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاس میں شیطان کے ان وساوس کا ذکر ہے جو کہ وہ لوگوں کے درمیان ان دنوں ڈال رہا ہے۔بڑا وسوسہ یہ ہے کہ ربوبیت کے متعلق غلطیاں ڈالی جائیں جیسا کہ امیر لوگوں کے پاس بہت مال و دولت دیکھ کر انسان کہے کہ یہی پرورش کرنے والے ہیں۔اس واسطے حقیقی رب الناس کی پناہ چاہنے کے واسطے فرمایا پھر دنیوی بادشاہوں اور 1159