نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1144 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1144

علمائے اسلام ہیں جو اپنی غلطی کو چھوڑ نا نہیں چاہتے اور نفسانی پھونکوں سے خدا کے فطری دین میں عقدے پیدا کر دیتے ہیں۔۔۔کسی مرد خدا کے سامنے میدان میں نہیں آ سکتے۔صرف اپنے اعتراضات کو تحریف تبدیل کی پھونکوں سے عقدہ لا یخل کرنا چاہتے ہیں، یعنی اصلی عبارتوں اور الفاظ کو بدل کر کوشش کرتے ہیں کہ مسئلے جو پیدا ہوئے ہوئے ہیں یہ اور الجھتے جائیں اور کبھی حل نہ ہوں۔فرمایا کہ عوام کو ایسے چکر میں ڈالا ہوا ہے کہ ان کو سمجھ نہیں آتی۔ان کا تو یہی جواب ہوتا ہے کہ علماء نے یہ کہہ دیا ، علماء ٹھیک کہتے ہوں گے۔سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں، جو دینی سوچ ہے، جو روحانی سوچ ہے وہ عوام کی اکثریت کی ختم ہو چکی ہے۔اس لئے کہ ان کے جو لیڈر ہیں جن کو انہوں نے اپنی طرف سے روحانیت پیدا کرنے کے لیڈر بنایا وہ تو خود اندھے ہیں۔خود اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”۔۔۔وہ قرآن کے مکذب ہیں کہ اس کی منشاء کے برخلاف اصرار کرتے ہیں اور اپنے ایسے افعال سے جو مخالف قرآن ہیں۔۔۔دشمنوں کو مدد دیتے ہیں۔۔۔پس ہم ان کی شرارتوں سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ (221) پھر وَمِنْ شَيْرِ النَّقْفتِ فِي الْعُقَدِ میں ان کے شر بھی شامل ہیں جو جماعت میں فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔بعض ایسے لوگ ہمارے اندر بھی بعض دفعہ ہوتے ہیں جو کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات کے حوالوں سے بعض باتیں کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی خلفاء کا مقابلہ کر کے۔تو ان فتنوں سے بھی جماعت کے افراد کو بچنا چاہئے۔پھر اس سورۃ میں حسد سے بچنے کی دعا سکھائی گئی۔اسلام کی ترقی جو مسیح موعود کے ذریعہ ہونی تھی اور آپ کے جاری نظام خلافت کے ذریعہ ہوئی تھی اور ہورہی ہے اس پر بھی حاسدوں کو حسد ہے اور جوں جوں جماعت ترقی کرتی جائے گی یہ حسد بڑھتی جائے گی۔آجکل افریقن ممالک میں جہاں جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھیل رہی ہے 1144