نُورِ ہدایت — Page 1064
کمایا ہوا مال۔گویا ان اقوام کے مالوں کو دوحصوں میں تقسیم کیا گیا ہے (1) وہ مال جو اپنے ملکوں میں صنعتوں وغیرہ سے پیدا کریں گے۔(2) وہ مال جو دوسرے ملکوں سے حاصل کریں گے۔یہ ظاہر ہے کہ یہ آیت مغربی اقوام پر پوری طرح صادق آتی ہے کیونکہ ایک طرف صنعتی ترقی سے وہ مالدار ہوگئی ہیں اور دوسری طرف انہوں نے نہ صرف دوسرے ملکوں میں اپنا رأس المال لگا کر ان کا مال چھین لیا بلکہ اس بہانے سے انہوں نے کئی ملکوں پر بھی قبضہ کر لیا۔ما اغلی عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ کے الفاظ بھی اس امر کی دلیل ہیں کہ سورۃ لہب کا نزول عبدالعزیٰ کے لئے قرار دینا کسی طرح بھی درست نہیں کیونکہ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ کے الفاظ مال کثیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔اور عبد العرہ ہی کے پاس تو کوئی ایسا مال نہ تھا جو قابل ذکر ہو اور نہ وہ اپنے زمانہ میں مالدار سمجھا جاتا تھا۔کسی کے پاس چند اونٹوں کا ہونا اس کو مالدار نہیں بنا سکتا۔پس مَالُهُ وَمَا كَسَب کے الفاظ اپنی پوری شان کے ساتھ مغربی اقوام پر ہی صادق آتے ہیں کیونکہ یہی وہ اقوام ہیں جو دنیا کی دولتمند اقوام سمجھی جاتی ہیں۔مفسرین کے نزدیک ما کسب سے مراد اعمال، کوششیں اور اولاد بھی ہوسکتی ہے۔پس ان معنوں کے اعتبار سے یہ مفہوم ہو گا کہ ان قوموں کو اپنے جتھوں، اپنے اموال اور اپنی ایجادات پر بڑا نا ز ہوگا۔لیکن تباہی کے وقت یہ چیزیں اُن کے کام نہیں آئیں گی بلکہ یہی چیزیں ان کی تباہی کا موجب ہوجائیں گی۔سَيَصْلى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ نار کے معنے آگ کے ہیں اور نار سے مراد جنگ بھی ہوتی ہے۔سَيَضلى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ کے معنے یہ ہوں گے کہ ابو ہی تحریکیں ایک سخت جنگ میں ڈالی جائیں گی اور وہ ایسی جنگ ہوگی جو شعلوں والی ہوگی اور ایسی ہوگی جس کی مثال پہلے بلتی ہوگی۔کیونکہ ناڑ نکرہ ہے اور نکرہ عظمت شان پر دلالت کرتا ہے۔یہ ظاہر ہے کہ ایٹم بم اور ہائیڈ روجن بم کا نتیجہ سوائے آگ کے شعلوں اور شدید گرمی کے کیا ہوسکتا ہے کیونکہ ان کے استعمال سے بیک وقت شہروں کے شہر آگ کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔1064