نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1062 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1062

اور ان کے ساتھیوں کا ہے۔ابولہب سے مراد یہ دونوں جتھے ہیں۔یہ ظاہر میں بھی ابولہب ہیں کہ ان کے رنگ سرخ و سفید ہیں اور باطن کے لحاظ سے بھی کہ ایٹم بم اور ہائیڈ روجن بم ایجاد کر رہے ہیں جن کا نتیجہ آگ اور شعلے ہیں۔اور اس لحاظ سے بھی ابولہب ہیں کہ یہ انجام کار جنگ کی آگ کی لپیٹ میں آنے والے ہیں اور چونکہ ان لوگوں نے محمد رسول اللہ صلیم کے خلاف خطرناک لٹریچر پیدا کر کے ایک آگ لگادی ہے اس لئے بھی وہ ابولہب کہلانے کے مستحق ہیں۔تبت يَدَا بِي لَهَبٍ میں تبت ماضی کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔لیکن عربی زبان میں جب کوئی امر یقینی اور قطعی طور پر ہونے والا ہو تو اس کے لئے ماضی کا صیغہ استعمال کرتے ہیں۔گویا یہ بتایا جاتا ہے کہ تم یہ سمجھو کہ یہ کام ہو چکا۔پس تبت کے معنے اس جگہ پر یہ ہوں گے کہ یہ یقینی بات ہے کہ یہ تباہ ہو جائیں گے اور اُن کا مقصد کہ اسلام کو مٹادیں حاصل نہ ہوگا۔پھر یہ امر بھی قابل غور ہے کہ آیت زیر تفسیر میں پہلے ابولہب کے دونوں ہاتھوں کی تباہی کا ذکر ہے اور پھر اس کی اپنی تباہی کا۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ابولہب کا نام پانے والی اقوام یعنی مشرقی اور مغربی طاقتیں دونوں پوری کوشش کریں گی کہ مختلف ممالک کو اپنے ساتھ ملالیں اور وہ ممالک ان کے ساتھ مل بھی جائیں گے اور ان کے لئے بطور ہاتھوں کے ہو جائیں گے۔اور ابولہب کہلانے والی اقوام ان جتھوں پر فخر کریں گی اور ان کو اپنی طاقت شمار کریں گی۔لیکن اللہ تعالیٰ ایسے اسباب پیدا کرے گا کہ پہلے تو یہ مؤیدین تباہ ہوں گے اور پھر وہ وجود جو ابولہب کہلانے کا مستحق ہوگا اور ان قوموں کا نقطہ مرکزی ہوگا ، وہ تباہ ہوگا۔ایک لطیف بات جو اس جگہ قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ احادیث میں جہاں اسلام کے خلاف اُٹھنے والی تحریکات کو بیان کیا گیا ہے وہاں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان فتنوں کے وقت اللہ تعالیٰ مسیح موعود کو نازل کرے گا اور وہ ان فتنوں کا مقابلہ کریں گے۔لیکن دعاؤں سے۔کیونکہ لا يَدَانِ لِأَحَدٍ لِقِتَالِهِمْ۔(مشكوة كتاب الفتن) ان اسلام کے مخالف لوگوں کا مقابلہ مادی ہتھیاروں سے نہ ہو سکے گا۔اس لئے کہ مسلمانوں کی حالت ضعف و کمزوری کی ہوگی لیکن 1062