نُورِ ہدایت — Page 1026
فَسَيْحُ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ سبیح کے معنے اللہ تعالیٰ کی ذات کو تمام عیوب اور نقائص سے مبرا قرار دینے کے ہوتے ہیں اور حمد کے معنے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں تمام خوبیوں کے ہونے کا اقرار کیا جائے۔حمد اس آیت میں لفظ رب استعمال فرمایا۔یعنی یہ کہا ہے کہ اپنے رب کی حمد کرو۔یہ نہیں کہا کہ اللہ کی حمد کرو۔رب کے معنوں کے اندر یہ مفہوم پایا جاتا ہے کہ اونی حالت سے ترقی دیتے دیتے کمال تک پہنچانا۔گویا رب کا لفظ اس آیت میں استعمال کرنے میں یہ حکمت ہے کہ تا یہ بتایا جائے کہ اللہ تعالیٰ اس لئے حمد کا مستحق ہے کہ اس نے مسلمانوں کو ضعف کی حالت سے اُٹھا کر ساری دُنیا کا مالک بنا دیا۔پس جو کسی پر اتنا فضل کرے وہ بہر حال حمد کا مستحق ہوگا۔پھر حمد کے لفظ میں یہ اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ اے مسلمانو! فتوحات کو دیکھ کر تمہارے اندر کبر پیدا نہ ہو۔اور یہ نہ سمجھنا کہ یہ فتوحات تمہاری کیسی ذاتی قابلیتوں کی بناء پر ہیں۔بلکہ یہ سب کچھ خدا کے فضل کے ماتحت تم کو میل رہا ہے اس لئے تمہیں خدا تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے اس کے آستانے پر ہمیشہ جھکے رہنا چاہئے۔تا تمہارا یہ شکر ادا کرنا اللہ تعالیٰ کے مزید فضلوں کو نازل کرنے کا موجب ہو۔الغرض فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ کے الفاظ میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اے مسلمانو! تم اعلان کر دو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق ہماری نصرت کر کے ایک طرف اپنی ذات کو تمام الزامات سے بری ٹھہرالیا ہے اور دوسری طرف اپنی ذات کو حمد کا مستحق قرار دے لیا ہے۔استغفار کے معنے ڈھانکنے یا حفاظت کرنے کے ہیں۔اور استغفار کے معنے ہیں حفاظت کے لئے دعا یا طلب حفاظت۔گویا استغفار کرنے والا شخص اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہے کہ وہ اس کو اپنی حفاظت میں لے لے اور اس کی بشریت کی کمزوریاں ظاہر نہ ہوں۔یا یہ کہ وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں اس طور پر آ جائے کہ اس سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو۔1026