نظام وصیت

by Other Authors

Page 226 of 260

نظام وصیت — Page 226

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 226 ہوتے۔تو یہ واضح ہو جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ اگر تو حالات ایسے ہوں کہ تمام چندے نہ دے سکتے ہوں تو اس کی اجازت لے لیں۔ورنہ توقع ایک موصی سے یہ کی جاتی ہے کہ ایک موصی کا معیار قربانی دوسروں کی نسبت ، غیر موصی کی نسبت زیادہ ہونا چاہیئے۔تو اگر وصیت کا صرف کم سے کم 1/10 حصہ دے کر باقی چندے نہیں دے رہے تو ہوسکتا ہے غیر موصی دوسرے چندے شامل کر کے موصیان سے زیادہ قربانی کر رہے ہوں۔تو اس لحاظ سے واضح کر دوں کہ کوئی بھی چندہ دینے والا ، چاہے وہ موصی ہیں یا غیر موصی ہیں اگر تو فیق ہے تو تمام تحریکات میں چندے دینے چاہئیں کیونکہ ہر تحریک اپنی اپنی ضرورت کے لحاظ سے بڑی اہم ہے۔پھر ایک چیز یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے کہا کہ اصل مقصد چندوں کا اللہ تعالیٰ کا قرب پانا ہے، نہ کہ پیسے اکھٹے کرنا۔اس لئے بالکل صحیح طریق سے بغیر کسی چیز کو، اپنی آمد کو چھپائے بغیر ، اپنے بجٹ بنوانے چاہئیں جو کہ سال کے شروع میں جماعتوں میں بنتے ہیں۔اور بجٹ بہر حال صحیح آمد پہ بنا چاہیئے۔اس کے بعد اگر توفیق نہیں تو چندوں کی چھوٹ لی جاسکتی ہے۔الفضل انٹر نیشنل 21 اپریل 2006ء صفحہ 7 میں شامل ہونے والوں کے لئے حضرت مسیح موعود کی بے شمار دعائیں ہیں (خطبہ جمعہ فرمودہ 14 اپریل 2006ء بمقام سڈنی آسٹریلیا) ہمارے تقویٰ کے معیار کو اونچا کرنے اور ہمیشہ جماعت میں اطاعت اور فرمانبرداری کی مثالیں قائم کرنے کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے بعد ایک ایسا انتظام فرمایا جو نظام خلافت کے ذریعے سے ہے۔اور اس نظام خلافت کے ساتھ ایک اور بھی نظام تھا۔ایک تو فرمانبرداری اور اطاعت کا نظام دوسرے خدا اور رسول کا پیغام پہنچانے کے لئے اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے کا اجراء۔اور آج سے تقریباً 100 سال پہلے یہ اجراء