نظام وصیت

by Other Authors

Page 98 of 260

نظام وصیت — Page 98

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 98 میں اطمینان ہو۔یہ جنت ہر شخص کے قبضہ میں ہے اور جو چاہے اسے لے سکتا ہے۔امیر بھی لے سکتا ہے اور غریب بھی۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بعض امیر صحابی تھے جو قربانیاں کیا کرتے تھے۔جس طرح آج کل بھی بہت سے امیر ہیں جو اخلاص سے قربانیوں میں حصہ لیتے ہیں اور ان کے دل غریبوں سے کم مطمئن نہیں اس وقت بھی ایسے لوگوں کو دیکھ کر غریبوں نے شکایت کی کہ رسول اللہ ظاہری تکلیفیں تو ہیں ہی لیکن ہم سمجھتے تھے کہ جو دل کا اطمینان ہمیں نصیب ہے وہ ان کو نہیں اس لئے ہم خوش ہیں۔لیکن اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان کا دل بھی اسی طرح مطمئن ہے جس طرح ہمارا۔اس طرح یہ دنیا میں بھی آرام میں رہے اور آخرت میں بھی۔رسول کریم ﷺ نے ان کے اخلاص کو دیکھ کر فرمایا آؤ میں تمہیں چند کلمات سکھاؤں۔اگر ان کا ورد کرو گے تو پانچ سو سال پہلے جنت میں جاؤ گے۔اس پر وہ خوش خوش چلے گئے۔کچھ دنوں کے بعد انہوں نے پھر شکایت کی کہ یا رسول اللہ وہ کلمات تو امیر بھی کہنے لگ گئے ہیں۔دراصل ان امیر لوگوں کے دلوں میں بھی اخلاص تھا۔جب انہوں نے رسول کریم ہے کے یہ سکھائے ہوئے کلمات سنے تو وہ بھی پڑھنے لگ گئے۔جب آپ کے پاس شکایت کی گئی تو آپ نے فرمایا اگر کی پر اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہورہا ہو تو میں اسے کس طرح روک سکتا ہوں۔پس جنت صرف غریبوں کے لئے ہی نہیں بلکہ امیروں کے لئے بھی ہے۔جب قربانی اور اخلاص سے انسان جنت کا وارث ہو سکتا ہے تو یہ قربانی اور اخلاص جو بھی دکھائے گا جنت کا وارث ہو جائے گا۔خواہ امیر ہو یا غریب ، اور قرآن مجید میں تو یہ مسیح موعود کے زمانہ کی علامت بیان کی گئی ہے کہ وَإِذَا الْجَنَّةُ أزلفت (التکویر : 14) یعنی اس زمانہ میں جنت قریب کی جائے گی۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کا صحیح ترجمہ وصیت ہی ہے۔یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں جنت اس طرح قریب کر دی جائے گی کہ لوگوں کو یقین ہو جائے گا کہ فلاں کو جنت مل گئی۔( خطبات محمود جلد 13 صفحه 552 تا 566)