نظام وصیت

by Other Authors

Page 15 of 260

نظام وصیت — Page 15

15 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ خدا تعالیٰ کبھی اس شخص کو جو محض اسی کا ہو جاتا ہے ضائع نہیں کرتا بلکہ وہ خود اس کا متکفل ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کریم ہے جو شخص اس کی راہ میں کچھ کھوتا ہے وہی کچھ پاتا ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں کو پیار کرتا ہے اور انہیں کی اولاد با برکت ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کے حکموں کی تعمیل کرتا ہے۔اور یہ کبھی نہیں ہوا اور نہ ہو گا کہ خدا تعالیٰ کا سچا فرماں بردار ہو وہ یا اس کی اولا د تباہ و برباد ہو جاوے۔دنیا ان لوگوں ہی کی برباد ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کو چھوڑتے ہیں اور دنیا پر جھکتے ہیں۔کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہرا مر کی طناب اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔اس کے بغیر کوئی مقدمہ فتح نہیں ہو سکتا۔کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی اور کسی قسم کی آسائش اور راحت میسر نہیں آ سکتی دولت ہو سکتی ہے مگر یہ کون کہہ سکتا ہے کہ مرنے کے بعد یہ بیوی یا بچوں کے ضرور کام آئے گی۔ان باتوں پر غور کرو اور اپنے اندر ایک نئی تبدیلی پیدا کرو۔غرض مجھے افسوس ہوتا ہے جب میں جماعت کو دیکھتا ہوں کہ یہ ابھی تھوڑے ابتلا کے بھی لائق نہیں۔وجہ یہ ہے کہ ابھی تک وہ قوت ایمانی پیدا نہیں ہوئی جو ہونی چاہیے۔ابھی تک جو تعریف کی جاتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی ستاری کرا رہی ہے۔لیکن جب کوئی ابتلاء اور آزمائش آتی ہے تو وہ انسان کو ننگا کر کے دکھا دیتی ہے یقیناً سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ لوگ پیارے نہیں ہیں جن کی پوشاکیں عمدہ ہوں اور وہ بڑے دولت مند اور خوش خور ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ پیارے ہیں جو دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں اور خالص خدا ہی کے لیے ہو جاتے ہیں۔پس تم اس امر کی طرف توجہ کرو نہ پہلے امر کی طرف۔اگر میں جماعت کی موجودہ حالت پر ہی نظر کروں تو مجھے بہت غم ہوتا ہے کہ ابھی بہت ہی کمزور حالت ہے اور بہت سے مراحل باقی ہیں جو اس نے طے کرنے ہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر نظر کرتا ہوں جو اس نے مجھ سے کئے ہیں تو میرا غم امید سے بدل جاتا ہے۔منجملہ اس کے وعدوں کے ایک یہ بھی ہے جو فرمایا وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ (ال عمران : 56) یہ توسیع ہے کہ وہ میرے متبعین کو میرے منکروں اور میرے مخالفوں پر