نظام وصیت — Page 141
141 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ کی عظمت کے قیام کیلئے کوشش کریں کو جو حضرت مسیح موعود نے سمجھا اور خدا تعالیٰ کے حکم سے جاری فرمایا اور کو جو حضرت مسیح موعود کے نائبین اور خلفاء نے سمجھا اس کے متعلق میں حضرت مصلح موعود ( اللہ آپ سے راضی ہو ) کا ایک حوالہ بتا دیتا ہوں۔جو انہوں نے سمجھا وہی میں سمجھتا ہوں اور اس سے پتہ لگ جائے گا کہ نظامِ وصیت جو ہے ہمارے نزدیک اس کی اہمیت اس کی عظمت اس کی وسعت اس کی افادیت کیا ہے۔حضرت مصلح موعود ( اللہ آپ سے راضی ہو ) فرماتے ہیں یہ نظام نو کا حوالہ ہے۔۔غرض جیسا کہ میں نے بتایا ہے وصیت حاوی ہے اس تمام نظام پر جو اسلام نے قائم کیا ہے۔بعض لوگ غلطی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ وصیت کا مال صرف لفظی اشاعت اسلام کے لئے ہے مگر یہ بات درست نہیں۔وصیت لفظی اشاعت اور عملی اشاعت دونوں کے لئے ہے۔جس طرح اس میں تبلیغ شامل ہے اسی طرح اس میں اس نئے نظام کی تکمیل بھی شامل ہے جس کے ماتحت ہر فرد بشر کی باعزت روٹی کا سامان مہیا کیا جائے گا۔جب وصیت کا نظام مکمل ہوگا تو صرف تبلیغ ہی اس سے نہ ہوگی بلکہ اسلام کے منشاء کے ماتحت ہر فرد بشر کی ضرورت کو اس سے پورا کیا جائے گا اور دکھ درد نگی کو انشاء اللہ دنیا سے مٹادیا جائے گا یتیم بھیک نہ مانگے گا، بیوہ لوگوں کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے گی ، بے سامان پریشان نہ پھرے گا کیونکہ وصیت بچوں کی ماں ہوگی جوانوں کی باپ ہوگی عورتوں کا سہاگ ہوگی اور جبر کے بغیر محبت اور دلی خوشی کے ساتھ بھائی بھائی کی اس ذریعہ سے مدد کرے گا اور اس کا دینا بے بدلہ نہ ہوگا بلکہ ہر دینے والا خدا تعالیٰ سے بہتر بدلہ پائے گا۔نہ امیر گھاٹے میں رہے گا نہ غریب نہ قوم قوم سے لڑے گی بلکہ اس کا احسان سب دنیا پر وسیع ہوگا۔“ یہ ہے ! دوست اس کی عظمت کو قائم کرنے کے لئے کوشش کریں۔رپورٹ مجلس مشاورت 1979 ء صفحہ 172,171)