نظام وصیت

by Other Authors

Page 82 of 260

نظام وصیت — Page 82

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 82 یہ ایک نیکی ہے جو کر سکتے ہیں کریں۔اگر کوئی کہے میں ظہر یا عصر کی چار رکعت فرض نہیں پڑھ سکتا دو پڑھوں گا تو ہم اسے کہیں گے نماز پڑھنا چاہتے تو چار ہی پڑھو اس میں فائدہ ہے۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ چلو تم دو یا ایک ہی رکعت پڑھ لو کیونکہ یہ کسی کو نمازی بنانے کے لئے کافی نہیں۔نمازی کے لئے ضروری ہے کہ چار ہی پڑھے اسے کوئی ابتلاء نہیں کہہ سکتا۔اسی طرح وصیت کے بارے میں احمدی کے لئے ابتلاء کی دوہی صورتیں ہو سکتی ہیں تیسری کوئی نہیں۔یا تو یہ کہ ہر ایک احمدی کو مجبور کیا جائے کہ وہ ضرور وصیت کرے تب کمز ور لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری آمدنی اتنی نہیں کہ ہم وصیت کر سکیں۔مگر وصیت کرنا تو اپنی مرضی پر ہے اور یہ اخلاص کے پر کھنے کا معیار ہے ایمان کا معیار نہیں ہے۔ایمان کے لئے یہ کافی ہے کہ کوئی کہے میں خدا کو وحدہ لا شریک مانتا ہوں اور محمد ﷺ پر ایمان لاتا ہوں کہ وہ خدا کے سچے نبی ہیں اور اپنے زمانہ کے مامور اور مرسل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانتا ہوں۔جو شخص یہ اقرار کرتا ہے اسے کوئی اسلام اور احمدیت سے نہیں نکال سکتا۔اس کے اگر اعمال خراب ہوں تو اسے خدا تعالیٰ پکڑے گا مگر کسی کے اختیار میں یہ نہیں ہے کہ اسے اسلام سے نکال دے۔ہاں اگر وہ ان امور کا جن پر اسلام کی بنیاد ہے انکار کرے گا تو خود اسلام سے نکل جائے گا۔البتہ مقررہ نظام سے آدمی کو نکالا جاتا ہے اگر وہ ایسا کام کرے جس سے تفرقہ پیدا ہوتا ہو۔کوئی فتنہ برپا ہوتا ہو تو اسے جماعت سے علیحدہ کیا جاتا ہے مگر احمدبیت سے نہیں نکالا جا تا۔اور جماعت سے نکالنے اور احمدیت سے علیحدہ کرنے میں فرق ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ جب کسی کا بیٹا نا فرمان ہو جائے تو اسے عاق کر دیا جاتا ہے مگریہ نہیں کہا جا تا کہ وہ بیٹا ہی نہیں رہا۔وہ نطفہ تو اسی کا ہوتا ہے ہاں مل کر کام نہ کرنے کی وجہ سے اسے علیحدہ کر دیا جاتا ہے۔اسی طرح جسے جماعت سے نکالا جاتا ہے اسے احمدیت سے نہیں نکالا جا تاجب تک کہ وہ اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے۔تو وصیت کے متعلق اگر مجبور کیا جاتا ہو تب کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ ٹھوکر کا باعث ہے یا جو روپیہ وصیت کا آتا ہو وہ کسی ایک شخص کی جائیداد بن رہا ہو۔میرے لئے یا میرے بیوی بچوں پر خرچ ہوتا ہو تو کوئی کہ سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو اس روپیہ کو دین کی اشاعت کے لئے خرچ کرنے کو کہا ہے مگر ایسا نہیں ہوتا۔پس اگر یہ روپیہ دین کے لئے لیا جاتا ہے اور دین پر خرچ کیا جاتا