نظام وصیت

by Other Authors

Page 76 of 260

نظام وصیت — Page 76

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 76 پھر میں اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وصیت آزمائش ایمان کا ذریعہ ہے۔وصیت پیمانہ ہے ایمان کو ناپنے کا اور وصیت آئینہ ہے اپنی ایمانی شکل دیکھنے کا۔میں اس کے متعلق کچھ زیادہ نہیں کہتا۔صرف اتنا کہتا ہوں کہ میں تمہاری نسبت اعلم ہوں اس معاملہ کے متعلق اور وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ابھی میں اصل مسئلہ کے متعلق کچھ نہیں کہنا چاہتا۔مجھے اس بارے میں دوستوں سے مشورہ کرنا ہے۔مگر میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری جماعت کے لوگوں میں قربانی اور ایثار کے جذبات پیدا کرے۔اور ہم اس کے قرب کو حاصل کر سکیں۔اور اس کے فضلوں کے وارث ہوں۔( خطبات محمود جلد 10 صفحه 170 تا 179 ) وصیت کرنا دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد کو پورا کرنا ہے (فرمودہ 4 مئی 1928ء) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ایک سال کے قریب ہوا میں نے اپنی جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ وصیت کا معاملہ نہایت اہم معاملہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے ایسی خصوصیت بخشی ہے اور اللہ تعالیٰ کے خاص الہامات کے ماتحت اسے قائم کیا ہے کہ کوئی مؤمن اس کی اہمیت اور عظمت کا انکار نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قائم کردہ سارا نظام ہی آسمانی اور خدائی اور الہامی نظام ہے مگر وصیت کا نظام ایسا نظام ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص الہام کے ماتحت قائم کیا گیا۔باقی امور ایسے ہیں جو عام الہام کے ماتحت قائم کئے گئے ہیں مگر وصیت کا مسئلہ ایسا ہے جو خاص الہام کے ماتحت قائم کیا گیا ہے۔اور وصیت کا مسئلہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا ایک عملی ثبوت ہے۔دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد ایک اقرار تھا۔اس کے متعلق مؤمن کیا کرتا۔کئی لوگ تو اس اقرار کو پورا کرنے کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کرتے اور کئی یہ اقرار کر کے خاموش ہو جاتے۔پھر کئی ایسے ہوتے جو چاہتے کہ دین کو دنیا پر مقدم کریں مگر اس کے لئے راہ نہ پاتے اور انہیں معلوم نہ ہوتا کہ کیا کریں؟ پھر بیسیوں تھے جنہوں نے اس اقرار کو پورا کیا اور بیسیوں ایسے تھے جو حیران تھے کہ کیا