نظام وصیت

by Other Authors

Page 58 of 260

نظام وصیت — Page 58

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 58 کھائے جاتی ہے اور اس کی شان احدیت میرے جسم کے ہر ذرہ پر لرزہ طاری کر دیتی ہے۔پس میں سمجھتا تھا کہ شاید یہ جسمانی قرب روحانی قرب کا موجب بن جائے۔اللہ تعالیٰ کے فضل تو سب ہی کچھ کر سکتا ہے۔مگر اپنی شامت اعمال اور صحت کی کمزوری دل کو شکار اوہام بنا دیتے ہیں۔پس میری جدائی حسرت کی جدائی تھی کیونکہ میں دیکھ رہا تھا کہ میری صحت جو پہلے ہی کمزور تھی۔پچھلے دنوں کے کام کی وجہ سے بالکل ٹوٹ گئی ہے۔میرے اندر اب وہ طاقت نہیں جو بیماریوں کا مقابلہ کر سکے۔وہ ہمت نہیں جو مرض کی تکلیف سے مستغنی کر دے۔ادھر ایک تکلیف دہ سفر در پیش تھا جو سفر بھی کام ہی کام کا پیش خیمہ تھا اور ان تمام باتوں کو دیکھ کر دل ڈرتا تھا اور کہتا تھا کہ شاید کہ یہ زیارت آخری ہو۔شاید وہ امیدحسرت میں تبدیل ہونے والی ہو۔سمندر پار کے مردوں کو کون لاسکتا ہے۔ان کی قبریا سمندر کی تہ اور مچھلیوں کا پیٹ ہے یا دیار بعیدہ کی زمین جہاں مزار محبوب پر سے ہو کر آنے والی ہوا بھی تو نہیں پہنچ سکتی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک وہم تھا۔کون کہہ سکتا ہے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے ہم اللہ تعالیٰ کے فضل کے ہی امیدوار ہیں اور میں تو کبھی اس سے مایوس نہیں ہوا۔میں اس کا بندہ ہوں اور میرا حق ہے کہ میں اس سے مانگوں اور وہ میرا رب ہے اور اس کی شان ہے کہ وہ مجھے دے۔مگر عشق است و بهزار بدگمانی عشق اور محبت و ہم پیدا کیا ہی کرتے ہیں اور خصوصاً اس قدر لمبا سفر اور ایسی تکلیف کا سفر اور صحت کی خرابی ایسے قوی موجبات ہیں کہ جن کے سبب سے ایسے و ہم بالکل طبعی ہیں۔الفضل قادیان 16 اگست 1924 صفحه (4) جوں جوں ہم قربانیاں کرتے چلے جائیں گے توں توں ہمیں تزکیہ اور طہارت حاصل ہوتی چلی جائے گی فرموده 22 جون 1926 ) چند دن ہوئے میں نے سنا بعض لوگ کہتے ہیں حضرت مسیح موعود نے تو لکھا ہے تین ماہ میں اگر ایک پیسہ بھی چندہ دیدو تو کافی ہے۔مگر یہاں آپ لحظه بلحظہ اسے بڑھا رہے ہیں۔ایک آنہ فی روپیہ ماہوار