نظام وصیت — Page 25
25 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ وصایا کرنے کی تحریک ہو مجبور نہ کرنا چاہیے وصایا کرنے کی تحریک کرنی چاہیے۔ایک دفعہ میں نے دیکھا تھا کہ ایک آدمی کو دو تین آدمی یہ کہہ کر وصیت کرنے کے لئے مجبور کر رہے تھے کہ اگر نہ کرو گے تو منافق ہو گے۔اس پر میں نے منع کیا تھا کہ اس طرح مجبور نہیں کرنا چاہیے نہ یہ کہ تحریک ہی نہیں کرنی چاہیے۔ہماری جماعت میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ اگر ان سے وصیتیں کرائی جائیں تو انہیں سے کم از کم ایک کروڑ روپیہ وصول ہوسکتا ہے۔میں نے جماعت کے مال کا اندازہ لگایا تو دیکھا کہ پنجاب کے تین ضلعوں منٹگمری، لائل پور اور سرگودھا کے احمدی اگر اپنی جائیداد کے دسویں حصہ کی وصیت کریں تو دس لاکھ اور اگر زیادہ وصیت کریں تو ۳۳لاکھ تک رقم مل سکتی ہے۔اور سارے ہندوستان میں جماعت کی جائیداد کا اندازہ لگایا جائے تو کم از کم دس کروڑ کی ہوگی۔جس میں سے ایک کروڑ مل سکتا ہے۔جن لوگوں کی جائیدادیں نہیں ان کی ماہوار آمدنی وصیت میں رکھی گئی ہے۔اور خواہ کوئی کتنی قلیل تنخواہ کا ملازم ہوا گر وہ اس تنخواہ کا دسواں حصہ دیتا ہے تو واقعی قربانی کرتا ہے اس طرح تین لاکھ کے قریب آمد ہوسکتی ہے۔( جماعت احمدیہ کا جدید نظام عمل۔انوار العلوم جلد 9 صفحہ 144) سلسلہ کی آمد میں خطر ناک نقص سلسلہ کی آمد میں آج تک ایک خطرناک نقص رہا ہے اور میں اس کا مخالف رہا ہوں اور اب بھی ہوں۔اور میری یہ رائے کبھی نہیں بدل سکتی کہ وصیت کے معاملے کو غلط طور پر سمجھا گیا ہے۔جن لوگوں کی جائیدادیں نہیں تھیں وہ وصیتیں کرتے چلے گئے ہیں حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وصیت کو مالی قربانی قرار دیا ہے مگر ۶۰ فیصدی وصیتیں ایسی تھی کہ عام لوگ شب برات اور محرم میں جتنا خرچ کرتے ہیں اس سے بھی کم انہوں نے وصیت میں دیا ہوگا۔میں اس کی ہمیشہ مخالفت کرتا رہا ہوں اور میں سمجھ نہیں سکتا میری یہ رائے کبھی بدل سکتی ہے کہ ایسے لوگوں کو ایک جگہ جمع کرنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مدنظر نہ تھا۔میرے نزدیک ہر وہ جائیداد جس سے کسی کا گزارہ نہیں