نظام وصیت

by Other Authors

Page 14 of 260

نظام وصیت — Page 14

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 14 توڑتا ہے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ مجرم ٹھہرتا ہے۔پس اسی غرض سے یہ اشتہار (الوصیت ) میں نے خدا تعالیٰ کے اذن سے دیا ہے۔سچی بات یہی ہے۔سال دیگر را کہ مے داند حساب۔لیکن جبکہ خدا تعالیٰ کی متواتر وحی نے مجھ پر کھولا کہ وقت قریب ہے اور اجل مقدر کا الہام ہوا تو میں نے اللہ تعالیٰ ہی کے اشارہ سے یہ اشتہار دیا کہ تا آئندہ کے لیے اشاعت دین کا سامان ہو اور تا لوگوں کو معلوم ہو کہ آمنا و صدقنا کہنے والوں کی عملی حالت کیا ہے۔یقین یا درکھو کہ جب تک انسان کی عملی حالت درست نہ ہو زبان کچھ چیز نہیں۔یہ نری لاف گزاف ہے۔زبان تک جوایمان رہتا ہے اور دل میں داخل ہو کر اپنا اثر عملی حالت پر نہیں ڈالتا وہ منافق کا ایمان ہے۔سچا ایمان وہی ہے جو دل میں داخل ہو اور اسکے اعمال کو اپنے اثر سے رنگین کر دے۔سچا ایمان ابو بکڑ اور دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تھا ، کیونکہ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال تو مال جان تک کو دے دیا۔اور اس کی پروا بھی نہ کی۔جان سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہوتی مگر صحابہ نے اُسے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کر دیا۔انہوں نے کبھی اس بات کی پروا بھی نہیں کی کہ بیوی بیوہ ہو جائے گی یا بچے یتیم رہ جائیں گے بلکہ وہ ہمیشہ - اسی آرزو میں رہتے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں ہماری زندگیاں قربان ہوں۔۔۔یہ حالت انسان کے اندر پیدا ہو جانا آسان بات نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دینے کو آمادہ ہو جاوے۔مگر صحابہ کی حالت بتاتی ہے کہ انہوں نے اس فرض کو ادا کیا جب انہیں حکم دیا کہ اس راہ میں جان دے دو پھر وہ دنیا کی طرف نہیں جھکے۔پس یہ ضروری امر ہے کہ تم دین کو دنیا پر مقدم کر لو۔یا درکھو اب جس کا اُصول دنیا ہے اور پھر وہ اس جماعت میں شامل ہے۔خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ اس جماعت میں نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی اس جماعت میں داخل اور شامل ہے جو دنیا سے دست بردار ہے۔یہ کوئی مت خیال کرے کہ میں ایسے خیال سے تباہ ہو جاؤں گا۔یہ خدا شناسی کی راہ سے دور لے جانے والا خیال ہے۔