نظام وصیت — Page 192
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 192 میں مالی معاملات میں خدا تعالیٰ سے بددیانتی کر رہا تھا، چھپارہا تھا، جو خدا نے اس کو دیا تھا اس سے کم ظاہر کر رہا تھا واپسی کے وقت تو پھر یہ بحث ہی نہیں ہے کہ اس نے روپیہ دیا ہے یا نہیں دیا پھر تو اس کی وصیت منسوخ ہونی چاہئے۔اس لئے جب ایسے لوگوں کی وصیت منسوخ کی جاتی ہے تو پھر شور اٹھتا ہے۔بڑا ظلم ہو رہا ہے جماعت میں اس نے ساری عمر اتنا دیا، لاکھوں دیا اب فلاں ایک جائیداد تھی اس کی وجہ سے ایک جھگڑا کھڑا کر دیا گیا، خواہ مخواہ شور ڈالا گیا۔تو یہ بد دیانتی ایک تو اس دنیا میں ہی ان کے لئے نقصان کا موجب بن گئی بہر حال۔آئندہ اعلیٰ معیار کے اوپر پر کھے جانے کا تو کیا سوال دنیا میں اس بد دیانتی نے اولا د کو ضائع کر دیا، رشتہ داروں کے ایمان کو ہلاک کر دیا۔تو یہ تو دوہرے نقصان کا موجب بنی ہے۔اس لئے تقویٰ اختیار کرو اور تقویٰ کا معنی یہ ہے ہر نقصان سے بیچ کر چلو ایک یہ بھی معنی ہے۔ہر دینی نقصان سے بچ کر چلو۔اگر تم تقویٰ اختیار کرتے ہو تو پھر ہر جگہ فائدہ ہی فائدہ ہے ہر سودا ہی فائدے کا ہوگا اور اگر وہاں ٹھوکر کھا گئے تو پھر جتنا مرضی دنیا میں خرچ کرو یا مرنے کے بعد جتنا چاہیں تمہاری اولادیں پیش کرتی چلی جائیں اس کا کوئی بھی فائدہ تمہیں حاصل نہیں ہو سکتا۔وصیت کو میں نے چونکہ ہدایت کی ہے کہ اب اس طرف بھی نگاہ کریں۔وہ نظام جو امراء سے اور سلوک کرے غرباء سے اور سلوک کرے وہ روحانی اور الہی نظام نہیں کہلا سکتا۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فتوی ہی چلے گا۔آپ کے دل کے جھوٹے خیال اور جھوٹے و ہم نہیں چلیں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے قو میں اس لئے ہلاک ہو گئیں کہ جب ان کے بڑے لوگ جرم کرتے تھے تو ان سے اعراض کر لیا کرتے تھے۔ان سے در گذر کا سلوک کرتے تھے اور جب غریب لوگ گناہ کرتے تھے تو بڑی سختی سے ان کو پکڑتے تھے۔(مسلم کتاب الحدود حدیث نمبر: ۳۱۹۶) اس لئے نظام جماعت کی تو اس معاملہ میں صرف ایک آنکھ ہے اور وہ تقویٰ کی آنکھ ہے۔تقویٰ کی آنکھ یہ فرق کر ہی نہیں سکتی اگر اس میں کوئی نقص نہ پیدا ہو گیا ہو۔اس لئے نظام جماعت تو اب ہر