نظام وصیت

by Other Authors

Page 6 of 260

نظام وصیت — Page 6

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 6 برگزیدہ جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں تب سے ہمیشہ مجھے یہ فکر رہی کہ جماعت کے لیے ایک قطعہ زمین قبرستان کی غرض سے خریدا جائے۔لیکن چونکہ موقعہ کی عمدہ زمینیں بہت قیمت سے ملتی تھیں اس لیے یہ غرض مدت دراز تک معرض التواء میں رہی۔اب اخویم مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی وفات کے بعد جب کہ میری وفات کی نسبت بھی متواتر وحی الہی ہوئی۔میں نے مناسب سمجھا کہ قبرستان کا جلدی انتظام کیا جائے اس لیے میں نے اپنی ملکیت کی زمین جو ہمارے باغ کے قریب ہے جس کی قیمت ہزار روپیہ سے کم نہیں اس کام کے لیے تجویز کی۔(الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 316 ممکن ہے کہ بعض آدمی جن پر بدگمانی کا مادہ غالب ہو وہ اس کا روائی میں ہمیں اعتراضوں کا نشانہ بناویں اور اس انتظام کو اغراض نفسانیہ پر مبنی سمجھیں یا اس کو بدعت قرار دیں لیکن یاد رہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے کام ہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔بلاشبہ اُس نے ارادہ کیا ہے کہ اس انتظام سے منافق اور مومن میں تمیز کرے اور ہم خود محسوس کرتے ہیں کہ جولوگ اس الہی انتظام پر اطلاع پا کر بلا تو قف اس فکر میں پڑتے ہیں کہ دسواں حصہ گل جائیداد کا خدا کی راہ میں دیں بلکہ اس سے زیادہ اپنا جوش دکھلاتے ہیں وہ اپنی ایمانداری پر مہر لگا دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: الم - أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنكبوت:3,2) کیا لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ میں اسی قدر پر راضی ہو جاؤں کہ وہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے۔اور ابھی ان کا امتحان نہ کیا جائے ، اور یہ امتحان تو کچھ بھی چیز نہیں۔صحابہ کا امتحان جانوں کے مطالبہ پر کیا گیا۔اور انہوں نے اپنے سر خدا کی راہ میں دیئے۔پھر ایسا گمان کہ کیوں یونہی عام اجازت ہر ایک کو نہ دی جائے کہ وہ اس قبرستان میں دفن کیا جائے کس قدر دور از حقیقت ہے۔اگر یہی روا ہو تو خدا تعالیٰ نے ہر ایک زمانہ میں امتحان کی کیوں بنیاد ڈالی! وہ ہر ایک زمانہ میں چاہتا رہا ہے کہ خبیث اور طیب میں فرق کر کے دکھلاوے اس لئے اب بھی اُس نے ایسا ہی کیا۔