نظام وصیت — Page 148
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 148 چوری کے مال سے وصیت نہیں کر سکتا کہ میں نے نو لاکھ کا ڈاکہ مارا ہے اور ۱/۳ کی وصیت کرتا ہوں۔تین لاکھ لے لیں اور مجھے بہشتی مقبرہ میں جانے دیں۔وہ بہشتی مقبرہ میں کیسے جائے گا؟ اسکی عام حالت دین کے لحاظ سے، شریعت کی پابندی کے لحاظ سے، حسن اخلاق کے لحاظ سے ایسی نہیں تھی کہ وہ بہشتی مقبرہ میں جاسکے۔اس کو خدا نے دولت دی تھی۔وہ کہتا ہے ٹھیک ہے، میں خدا تعالیٰ کے پیار کو اس رنگ میں حاصل نہیں کر سکا کہ بہشتی دروازہ میرے لئے بظاہر کھل سکے۔یہ ایک رستہ میرے پاس ہے کہ میں مال کی قربانی دیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود نے اللہ تعالیٰ کے الہام اور وحی سے اس کو یہ بشارت دی کہ تیری قربانی قبول ہو جائے گی، اگر باقی چیزیں ٹھیک ہیں۔یعنی حرام کا مال نہیں ہے۔پسینے کی کمائی ہے اور وصیت کے علاوہ جو حقوق ہیں وہ اس میں پورے کئے گئے ہیں۔یہ بھی دیکھنے والی بات ہے۔ایک یہ ہے کہ اس کے پاس مال نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود ضمیمہ رسالہ الوصیت میں فرماتے ہیں۔اگر کوئی کچھ بھی جائیداد منقولہ یا غیر منقولہ نہ رکھتا ہو اور بایں ہمہ ثابت ہو کہ وہ ایک صالح درویش ہے اور متقی اور خالص مومن ہے اور کوئی حصہ نفاق یا دنیا پرستی یا قصور اطاعت کا اس کے اندر نہ ہو تو وہ بھی میری اجازت سے یا میرے بعد انجمن کی اتفاق رائے سے اس مقبرہ میں جاسکتا ہے۔بہشتی مقبرہ میں جانے والے دو ہو گئے ناں۔ایک وہ جو پیسہ بھی زیادہ نہیں دے سکتے۔تھوڑی سی انکے پاس دولت ہے۔مثلاً ہزار روپیہ ہے اس میں سے سوروپیہ دے دیا۔اب ایک غیر موصی شخص جو دس دس ہزار روپے چندہ عام دیتا ہے۔وہ دس ہزار روپیہ دے کے بھی بہشتی مقبرے میں جانے کا قانونا حقدار نہیں بنتا۔لیکن یہ شخص سور و پی دیتا ہے اور حقدار بن جاتا ہے۔اس واسطے کہ دوسرا دروازہ اس کے لئے کھلا ہے۔پس بہشتی مقبرے میں جانے کے دو دروازے کھلے ہیں۔ہر دو انتہائی قربانی چاہتے ہیں اور جو اس کے خلاف ہو گیا وہ غلطی ہوگئی۔اس کی درستی ہونی چاہیے۔مثلاً ایک وقت میں عورت کے لئے یہ قاعد و مقرر کر دیا کہ اس کا مہر اس کی جائیداد ہو اور مہر تھا بتیس روپے۔بتیس روپے کی