نظام وصیت — Page 140
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 140 ا اور -/500روپے پر بیوی کی وصیت کروادی۔میرے نزدیک ایسی عورت کی -/500 روپے کے او پر وصیت نہیں ہونی چاہیے ہمیں جہاں مالی قربانی دینی پڑتی ہے وہاں خود تو پیچھے ہٹ گئے اور بیوی کو پکڑ کے زبردستی اور دھکا دے کے کہا جاتو بہشتی مقبرہ میں میں باہر کھڑا ہوں۔یہ طریق تو مضحکہ بن جاتا ہے۔جب سے میں نے وصایا کو دیکھنا شروع کیا ہے کئی ایسی وصایا میرے سامنے آئی ہیں کہ بڑا اچھا کھاتا پیتا گھرانہ ہے اور خاوند غیر موصی ہے اور بیوی کا-321 روپے شرعی مہر رکھا ہوا یعنی شریعت کو بدنام کرنے کے لئے اس کا نام شرعی مہر رکھا ہوا ہے جب کوئی شخص اپنی بیوی کا اس قسم کا شرعی مہر رکھ دیتا ہے تو یہ غلط ہے۔اصل یہ چیز ہے جس کا دیکھنا آپ کا کام ہے آئندہ کے لئے احتیاط کریں۔جو پچھلا کام ہے اس کے متعلق تو کمیٹی بن جائے گی وہ بھی کچھ کام کرے گی آپ بھی کچھ کر رہے ہیں لیکن آئندہ کے لئے کوئی وصیت ایسی نہیں ہونی چاہیے جس کی روح کو قائم نہ رکھا گیا ہو۔رپورٹ مجلس مشاورت 1979 ء صفحہ 154,153 ) ایک موصیہ اور غیر موصیہ میں جب تک نمایاں فرق نہیں اس وقت تک وصیت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا میں نے پچھلے سال اور اُس سے پچھلے سال بھی کہا تھا کہ ایک موصی اور غیر موصی میں مابہ الامتیاز ہونا چاہیے اسی طرح ایک موصیبہ اور غیر موصیہ میں بھی مابہ الامتیاز ہونا چاہیے۔جب تک ان میں نمایاں فرق نہیں ہے اس وقت تک میرے نزدیک وصیت کا سوال ہی کوئی نہیں پیدا ہوتا اور یہ جو بڑے مخلص آدمی میں نے بتائے ہیں ناں کہ ویسے کئی موصیوں سے زیادہ مالی قربانی کرنے والے ہوتے ہیں لیکن وصیت نہیں کرتے وہ بھی بڑے بے نفس انسان ہوتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کس منہ سے ہم خدا کو یہ کہیں کہ ہم نے بڑی قربانی کی ہے ہمیں بہشتی مقبرہ میں دفن کر دیا جائے۔میر ان کا اپنا معاملہ ہے خدا تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔رپورٹ مجلس مشاورت 1979 ء صفحہ (154)