نظام وصیت — Page 139
139 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ وصیت کے ساتھ تمسخر ہو جائے گا۔تو اس کی چھان بین ہونی چاہیے اور کوئی ایسا قاعدہ بننا چاہیے کہ آئندہ آرام سے ایک طرف غلط اقدام ہم نہ اٹھا سکیں اور دوسری طرف بثاشت کے ساتھ ہماری بہنیں دین کی خدمت خولہ اور عائشہ تیموریہ کی طرح نمایاں طور پر آگے بڑھ کر کرنے والی ہوں اور ہم دعا کرتے ہیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو قبول کرے گا اور اپنی رضا کی جنتوں میں انہیں داخل کرے گا۔پس میں وہ ایک نمونہ بن کے داخل ہوں۔نظامِ وصیت میں ایک مشکوک حیثیت میں پچھلے دروازے سے داخل ہونے کی کوشش نہ کریں۔رپورٹ مجلس مشاورت 1978ء صفحہ 176 تا 182) شخص نے اللہ کے فضل سے جنت میں جانا ہے آپ کو یہ غلط نہی ہے کہ بہشت میں صرف وہ احمدی جائے گا جو بہشتی مقبرہ میں دفن ہو گا۔بڑی سخت غلط نہی ہے۔میں ایسے سینکڑوں آدمیوں کو جانتا ہوں جن کی مالی قربانی ہزاروں موصوں کی مالی قربانی سے زیادہ ہے لیکن ان کی وصیت نہیں ہے اور یہ میں آپ کو سمجھانے کے لئے کہہ رہا ہوں باقی تو ہر شخص نے اللہ کے فضل سے جنت میں جانا ہے۔اگر آپ کے دماغ میں یہ ہو کہ مالی قربانی کے نتیجہ میں کسی شخص نے جنت میں جانا ہے تو سینکڑوں غیر موصی ایسے بھی ہیں جن کی مالی قربانیاں ہزاروں موصیوں کی قربانیوں سے زیادہ ہوتی ہیں اور وہ وصیت نہیں کرتے۔(رپورٹ مجلس مشاورت 1979ء صفحہ 129) ایک مضحکہ خیز طریق بیوی کو دھکا دے کہ جا تو بہشتی مقبرہ میں اور میں باہر کھڑا ہوں ایک اور بات دیکھنے والی ہے اور وہ بہت ضروری ہے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ خاوند نے وصیت کی ہے یا نہیں کیونکہ میرے علم میں بعض ایسے خاوند ہیں جن کی دس پندرہ بیس ہزار پچاس ہزار لاکھ روپے ماہانہ آمد ہے اور انہوں نے وصیت نہیں کی اور بیوی کا مہر انہوں نے -/500 روپے رکھا ہوا ہے