نظام وصیت

by Other Authors

Page 92 of 260

نظام وصیت — Page 92

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 92 بھی شامل ہو جائیں گے حالانکہ خدا تو دل کو جانتا ہے اور وہ قلبی کیفیات کے مطابق ان سے سلوک کرے گا۔وہ سمجھتے ہیں کہ قیامت کے دن خدا صرف اتنا ہی پوچھے گا کہ کون کون احمدی کہلا تا ہے اور جو اپنے آپ کو احمدی کہے گا اسے جنت میں داخل کر دے گا۔یہ احمق اتنا نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالیٰ تو منافقوں کے متعلق فرماتا ہے إِنَّ المُنفِقِينَ فِي الدَّرَكِ الا سُفَلِ مِنَ النَّارِ (النساء: 146) منافق دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے مگر یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید انہیں جنت میں سب سے اعلیٰ مقام میسر آئے گا۔اللہ تعالیٰ کی دلوں پر نگاہ ہے اور قلوب اس کے سامنے اسی طرح کھلے ہیں جس طرح آئینہ میں ہر چیز نظر آجاتی ہے۔پس میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جہاں انہیں نفلوں کی طرف توجہ کرنی چاہیئے وہاں فرائض کی طرف سے بھی غافل نہیں ہونا چاہئے۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب کبھی کوئی تحریک کی جائے وہ مخلص جو پہلے ہی بوجھ کے نیچے دبے ہوتے ہیں اور زیادہ حصہ لینا شروع کر دیتے ہیں۔اور منافق سمجھ لیتا ہے کہ میں اس تحریک سے مستفی ہوں، وہ اپنے آپ کو اسی طرح مستثنی خیال کرتے ہیں جیسا کہ میں نے اکثر دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول (اللہ آپ سے راضی ہو ) جب زیادہ بیمار ہوتے تو فرمایا کرتے۔لوگ اُٹھ جائیں میں ہمیشہ دیکھتا کہ آپ کے اس کہنے پر کبھی سارے لوگ نہ اٹھتے بلکہ بعض اُٹھ جاتے اور بعض بیٹھے رہتے۔جب آپ دیکھتے کہ اب بھی کچھ باقی ہیں تو آپ فرمایا کرتے کہ اب نمبر دار بھی چلے جائیں۔ایک دفعہ ہنس کر مجھے فرمانے لگے نمبر دار ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو علاقہ کا نمبر دار خیال کر کے سمجھتے ہیں کہ ہمیں حکم نہیں ملا، دوسروں کو دیا گیا ہے۔اسی طرح یہ منافق بھی اپنے آپ کو نمبر دار خیال کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم مستثنیٰ ہیں۔لیکن جماعت کا وہ حصہ جو قربانی کرتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کے اخلاص اور قربانیوں کو ضائع نہیں کرے گا اور یقیناً وہ اس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل کو کھینچ رہے ہیں۔لیکن ان کی قربانیاں منافقوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھی بھڑ کا رہی ہیں۔جب ایک بوجھ کے نیچے دبا ہوا انسان اور زیادہ قربانی کرتا چلا جاتا ہے تو جہاں اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی رحمت بڑھتی ہے، وہاں غافلوں کی طرف اس کا غضب بھی حرکت کرتا اور ان کے نفاق کو بالکل