نظام وصیت — Page 65
65 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ مجبوریوں کی وجہ سے ۱/۳ حصہ کی نہ کر سکے تو ۴ / احصہ کی کرے۔اگر ۴ / ا حصہ کی نہ کر سکے تو ۱/۵ حصہ کی کرے اگر ۵/ احصہ کی نہ کر سکے تو ۶ / ۱ حصہ کی کرے۔اور اگر ۶ / ا حصہ کی نہ کر سکے تو / احصہ کی کرے۔اگر احصہ کی نہ کر سکے تو ۱/۸ حصہ کی کرے۔اگر ٨/ ا حصہ کی نہ کر سکے تو ۹/ احصہ کی کرے اور اگر کچھ بھی نہ کر سکے تو ۱۰/ ا حصہ کی کرے۔میں امید کرتا ہوں کہ اگر دوست اس رنگ میں اپنے فرائض ادا کریں گے تو خدا کے فضل سے بہت جلد کامیابی حاصل ہوگی۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ لوگوں کی کوششوں میں برکت ڈالے۔اور جو اسلام کی اشاعت کا کام اس نے ہمارے ذریعہ جاری کیا ہے۔اسے ہماری سستی سے نقصان نہ پہنچے بلکہ دن بدن ترقی کرے۔(خطبات محمود جلد 10 صفحہ 167 168 ) | وصیت کی اصل غرض اور ضرورت فرموده 14 مئی 1926 ء) جوچیزیهدی به کثیرا ہوگی وہ ساتھ ہی يُضِلُّ بہ کثیرا بھی ہوگی : بعض امور بظاہر چھوٹے نظر آتے ہیں۔لیکن ان کے گرد و پیش ایسے حالات جمع ہو جاتے ہیں کہ ان حالات کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت پکڑ جاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت میں ایسے امور کی مثالوں میں سے ایک اہم مثال حصہ وصیت ہے۔اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے وہ تو سب باتوں کو جانتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب رسالہ الوصیۃ شائع کیا تو آپ کے ذہن میں وہ مشکلات نہ تھیں جو آئندہ زمانہ میں اس سلسلہ کے گرد جمع ہونے والی تھیں۔ان مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں وصیت عقلی طور بھی نجات کا ذریعہ ہے۔اگر وہ مشکلات نہ پیدا ہوتیں اور اس قسم کے حالات وصیت کے متعلق رونما نہ ہوتے تو خیال ہوسکتا تھا کہ وصیت۔جنت کا کیا تعلق؟ مگر اس کے گردو پیش ایسی مشکلات جمع ہو گئی ہیں جو قرآن کریم کے بتائے ہوئے قاعدہ کے ماتحت بتاتی ہیں کہ وہ اس امر کے گرد جمع ہوتی ہیں جو ہدایت کا باعث ہو۔دیکھو خدا تعالیٰ