نظام وصیت

by Other Authors

Page 242 of 260

نظام وصیت — Page 242

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 242 Bank Loan لے سکتے ہیں؟ اصل چیز تو قرآن ہے۔جو چیز منع کی گئی ہے Interest ہے لیکن آج کل جو بینکنگ سسٹم ہے اس میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہے جہاں Interest نہ ہو۔یہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں اس کے اوپر بھی Interest ہے۔فیکٹریاں جو کھانا بنا کے دیتی ہیں ان کے او پر بھی Interest ہے۔تو ہر نظام اوپر نیچے ہو گیا ہے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ بینکنگ سٹم کے اوپر سوچنے کی ضرورت ہے اجتہاد کی ضرورت ہے۔باقی یہ جو بڑے بڑے لون (Loan) بلا وجہ لے لیتے ہیں مثلائی وی خرید نا ہو تو Loanلے لیا۔یہ تو ویسے ہی نا جائز ہے چاہے ہے یا نہیں ہے۔گھر کا صوفہ خریدنا ہے، چارسال پرانا ہو گیا ہے تو نیا Interest پر لے کے آگئے۔آپ Credit Card کے اوپر چلتے رہتے ہیں اور آخر میں وہی حال ہوتا ہے جو 2008ء کے Credit کرنچ سے ہوا ہے یا اب تک جو چل رہا ہے۔اس لئے بلاوجہ Interest پر Loan لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ہاں بعض ایسی Properties ہیں مثلاً گھر جس میں آپ رہنا چاہتی ہیں، وہ مورگیج پر لے لیتی ہیں اور اس کے لئے آپ اتنی ہی رقم بینک کو Pay کر رہی ہیں، جتنی کرایہ کی کرتی ہیں تو وہ اس لحاظ سے جائز بن جاتا ہے کہ چلو کرائے کے مطابق رقم جارہی ہے۔آپ زائد ادا نہیں کر رہیں۔مثلاً تیسری دنیا کے ممالک کے بارہ میں ایک ماہر معاشیات نے لکھا ہے: "Born in debt, lives in debt,dies in debt" قرضوں میں ہی چلا جاتا ہے پھر نسلوں پر قرضے آ جاتے ہیں۔ایسی صورت حال نہیں ہونی چاہئے۔یعنی عیاشیوں کے لئے بلاوجہ قرضے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔صرف گھر کی حد تک اس لئے کہ Mortgage کا کرایہ چل رہا ہوتا ہے۔اتنا دے سکتی ہیں تو ٹھیک ہے۔لیکن یہ کہ میں نے کپڑے بنانے ہیں، میں نے صوفہ خریدنا ہے، میری سہیلی کے ہاں نیائی وی آ گیا ہے اب میں نے بھی لینا ہے تو بینک سے Loan لے لوں۔یہ نا جائز ہے، غلط ہے، چاہے موصی ہیں یا نہیں۔لیکن بہر حال موصی کو دیکھنا چاہئے۔تقویٰ کی باریک راہیں تلاش کریں اور اس کے لئے اپنے ضمیر سے فتویٰ لیں کہ یہ جائز ہو رہا ہے یا صرف دنیاوی خواہش ہے۔الفضل انٹر نیشنل 24 اگست 2012 صفحه 13