نظام وصیت

by Other Authors

Page 188 of 260

نظام وصیت — Page 188

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 188 نہیں ہے تو روپیہ کس طرح چھوڑ دیا پیچھے؟ اس قسم کے سوالات ایسے ہیں جن میں بہت سی وقتیں سامنے آنے لگیں۔ایک رحجان تو یہ تھا کہ اور قانون بنائے جائیں لیکن حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس بات کا فیصلہ کیا کہ ایسی وصیتوں کو سرسری جائزہ لے کر معلق کر دیا جائے اور ان کی تحقیق کی جائے۔یہ بھی اپنی ذات میں قانون بن گیا اور اس کا بھی غلط مفہوم سمجھ کر غلط طور پر اس پر عمل ہونے لگا۔مثلاً ایک عورت جو فوت ہوگئی اس کے خاوند نے دس روپے مہر لکھوایا ہوا تھا اس کے بچوں نے کہا کہ ہم اس کا مہر پچاس روپے یا ہزار روپے یا لاکھ روپے کر دیتے ہیں وصیت منسوخ نہ کرو اور محکمے نے چپ کر کے منظور کر لیا یعنی سفارش کر دی۔ایک فوت شدہ ماں یا باپ اپنی زندگی میں تو کچھ نہیں دے سکا اس عذر کے تابع کہ میں اپنے بچوں پر انحصار کرتا ہوں اس لئے مجھے مالی قربانی کی اولین صف میں ضرور شمار کر لیا جائے لیکن مالی قربانی کوئی پیش نہ کی اور فوت ہونے کے بعد جب رد کیا گیا تو وصیت والوں نے سفارشیں شروع کر دیں کہ بیٹے یا دوسرے ذی حیثیت عزیز لاکھ روپیہ دینے کے لئے بھی تیار ہیں، دس لاکھ روپیہ دینے کے لئے بھی تیار ہیں، ان کی وصیت مقبول ہو اور اگر گزشتہ نہیں دے سکے تھے تو اب قبول کر لیں۔یہ وہ معاملات ہیں جن پر اس آیت کا اطلاق ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد ان سے کوئی عدل قبول نہیں کیا جائے گا۔اگر سونے کے پہاڑ بھی پیش کریں گے تو وہ کوتاہی جو زندگی میں ہوگئی ہے اسکی وہ خامی دور نہیں ہوسکتی۔وہ حق مہر جو زندگی میں مقررہی نہیں ہو اس کو اولاد کیسے مقرر کرسکتی ہے۔تو جب میرے علم میں ایسی باتیں آئیں تو میں نے دفتر وصیت والوں کو بھی پکڑا جو ان کے منتظم تھے ان کو کہا کہ صرف موصی کے تقویٰ کا معیار اونچا ہونا ضروری نہیں تمہارے تقویٰ کا معیار اونچا ہونا بھی ضروری ہے۔مال کون دیتا ہے یا کتنا دیتا ہے یہ بحث ہی نہیں ہے۔اگر مال کی بحث ہوتی تو خدا تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ سونے کے پہاڑ بھی رد کر دیئے جائیں گے۔بحث صرف یہ ہے کہ جو کچھ دیا گیا تھا اس کے پیچھے روح تقومی تھی کہ نہیں۔اور اگر روح تقویٰ تھی تو پھر خواہ تھوڑا بھی تھا تو تمہیں رد کرنے کا کوئی حق نہیں۔لیکن اگر روح تقوی نظر نہیں آتی یا زندگی میں تو کچھ نہیں ہو سکا مرنے کے بعد اولا داس کا