نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 129

نظام نو — Page 73

ہے؟ آپ نے فرمایا تھیلی ملے تو اُسے اٹھا لو او لوگوں میں اس کے متعلق متواتر اعلان کرتے رہو جب اس کا مالک مل جائے تو اُسے دیدو۔پس ہر گری پڑی چیز کے لئے الگ الگ قانون ہے۔بکری اور مرغی چونکہ ایسی چیزیں ہیں جنہیں جانور کھا جاتے ہیں اس لئے اگر ان کا مالک نہ ملے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ انہیں پانے والا اپنے استعمال میں لے آئے۔لیکن جو باقی چیزیں ہیں۔ان میں سے جو حفاظت سے رہ سکتی ہیں اُن کے متعلق حکم دیا کہ انہیں ہاتھ مت لگاؤ اور جو حفاظت سے نہیں رہ سکتیں اُن کے متعلق حکم دیا کہ انہیں اٹھا تو لو۔مگر متواتر لوگوں میں اعلان کرتے رہو اور پھر ان کے اصل مالک تک انہیں پہنچا دو۔تو اسلام نے گری پڑی چیزوں کے متعلق نہایت پر حکمت احکام دیئے ہیں مگر اب پور بین اقوام کا اصول یہ ہے کہ جولا وارث، کمزور قوم ہو اس پر قبضہ کر لو۔اس کے متعلق وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ ہمیں گرا پڑا مال مل گیا ہے۔آسٹریلیا کتنا بڑا ملک ہے اس کے متعلق پور پین لوگ کہتے ہیں یہ ہمیں لاوارث مال مل گیا ہے، ہندوستان کی حکومت کے متعلق کہتے ہیں۔کہ یہ ہمیں لاوارث مل گیا ہے۔شمالی امریکہ کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ ہمیں لاوارث مل گیا ہے، جنوبی امریکہ کے متعلق کہتے ہیں یہ ہمیں لاوارث مل گیا ہے۔غرض پانچواں نظر یہ پورپین اقوام کا یہ ہے کہ نیا دریافت کردہ ملک جو بھی دریافت کر لے یا کمزور حکومت جہاں بھی ہو وہ پہلے پہنچنے والے کی ہے۔ان اصول کے علاوہ جن کی وجہ سے دنیا میں ظلم ہو رہا ہے کچھ عملی خامیاں بھی اس ظلم کی ذمہ وار ہیں۔لوگوں پر ظلم روا ر کھنے والی عملی خامیاں پہلی عملی خامی تو یہ ہے کہ معذور و مجبور کا ذمہ دار کسی محکمہ کو قرار نہیں دیا جاتا رہا گواب اس کی بعض ممالک میں تدریجاً اصلاح ہو رہی ہے اور بعض محکمے ایسے بنے ہیں جن کے ذریعہ اس کو تا ہی کا ازالہ کیا جاتا ہے مگر اب بھی انہوں نے جو نئی سکیم بنائی ہے وہ اسلامی تعلیم کو نہیں پہنچتی۔73