نظام نو — Page 69
علیہ وسلم کی خدمت کو آزادی پر ترجیح دی۔غلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن سلوک کا نمونہ اور اس کا نتیجہ جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی ہوئی تو انہوں نے اپنی تمام دولت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دے دی اور زیڈ کو بھی جوان کے غلام تھے آپ کے سپر د کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید کو آزاد کر دیا۔حضرت زید در اصل غلام نہیں تھے بلکہ ایک آزاد خاندان کے لڑکے تھے کسی لوٹ مار میں وہ قید ہو گئے اور ہوتے ہوتے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے۔اُن کے باپ اور چا دونوں اُن کو تلاش کرتے کرتے مکہ میں آئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ زیڈ کو ہمارے ساتھ بھیجا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت زید کو آزاد کر چکے تھے آپ نے فرمایا میری طرف سے کوئی روک نہیں اگر یہ جانا چاہتا ہے تو بے شک چلا جائے۔انہوں نے زیڈ سے کہا کہ بیٹا ! گھر چل تیری ماں روتی ہے اور اُسے تیری جدائی کا سخت صدمہ ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھی تجھے آزاد کر دیا ہے اور اجازت دے دی ہے کہ تو ہمارے ساتھ واپس چلا جا۔زیڈ نے کہا انہوں نے بے شک مجھے آزاد کر دیا ہے مگر میں دل سے ان کا غلام ہی ہوں اور اس غلامی سے الگ ہونا نہیں چاہتا۔باپ نے بہت منت سماجت کی اور کہا دیکھ اپنی بوڑھی ماں کا خیال کر چچانے بھی بہت کوشش کی اور کہا کہ ماں باپ سے بڑھ کر اور کون حسن سلوک کر سکتا ہے ہمارے ساتھ چل ہم تجھے بڑی محبت سے رکھیں گے مگر حضرت زید نے کہا میں آپ کے ساتھ نہیں جاسکتا کیونکہ میرے ساتھ جو کچھ یہ سلوک کرتے ہیں اس سے بہتر سلوک دنیا کی کوئی ماں اور دنیا کا کوئی باپ نہیں کر سکتا۔اب بتاؤ کیا اس غلامی پر اعتراض ہو سکتا ہے؟ یا انسان کا دل تشکر و امتنان کے جذبات سے لبریز ہو جاتا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اور وہ حیران ہو جاتا ہے کہ کیا دنیا میں دو 69