نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 129

نظام نو — Page 2

کر دیا جائے اس لئے ایسا اتفاق ہو گیا کہ میں متواتر بیمار ہوتا چلا گیا اور سیر روحانی والے مضمون کے واسطے حوالے نکالنے کے لئے جو وقت چاہیئے تھا وہ مجھے نہ ملا۔آخر میں نے سمجھا کہ ۲۰ / تاریخ سے اس غرض کے لئے وقت نکالنا شروع کر دونگا مگر ان دنوں بہت سا تفسیر کا کام کرنا پڑا۔یہ امر میں بتا چکا ہوں کہ آجکل میں تفسیر لکھایا کرتا ہوں۔پس ان دنوں ایک دفعہ میں تفسیر لکھاتا اور دوسری دفعہ صاف شدہ مضمون کو دیکھتا اور اسطرح کافی وقت اس پر خرچ ہو جاتا۔پھر آجکل ڈاک بھی میں نے خود ہی پڑھنی شروع کر دی ہے اور یہ کام بھی بہت زیادہ ہوتا ہے (ضمنی طور پر میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ پہلے ڈاک میں خود نہیں پڑھا کرتا تھا بلکہ تفسیر کے کام کی وجہ سے دفتر والے خطوط کا خلاصہ میرے سامنے پیش کر دیا کرتے تھے مگر پچھلے چار پانچ ماہ سے میں خود تمام ڈاک پڑھتا ہوں جن کے جواب ضروری ہوں اُن کے جواب خطوط کے حاشیہ میں نوٹ کر دیا کرتا ہوں۔اور جن خطوط کے جوابات دفتر والوں کو پہلے سے بتائے جاچکے ہیں اُن خطوط کے وہ خود ہی جواب دے دیا کرتے ہیں۔بہر حال اب ڈاک کا کام بھی جاری ہے اور یہ کام بھی بہت بڑا ہوتا ہے ) اس وجہ سے مجھے جلسہ سالانہ کی تقریر کے لئے نوٹ لکھنے اور حوالہ جات نکالنے کی بالکل فرصت نہ ملی۔جب ۲۰ تاریخ آئی تو میں نے اپنے دل میں کہا کہ اب کل صبح سے کام شروع کرونگا۔کچھ ڈاک بھی باقی تھی اُدھر تحریک جدید والوں نے مجھے کہلا بھیجا کہ دوستوں کے وعدے نہیں پہنچے ڈاک بھجوائی جائے تاکہ اُن کے وعدے نوٹ کر لئے جائیں چنانچہ میں وہ ڈاک دیکھنے لگ گیا۔اسی دوران میں یکدم مجھے ایسی سردی لگی کہ شدت سردی کی وجہ سے مجھے کپکپی شروع ہوگئی اور دانت بجنے لگ گئے اُس وقت مجھے پیشاب کی حاجت محسوس ہوتی تھی اور میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ لوٹا رکھ دو مگر میری طبیعت اُسوقت ایسی خراب ہو گئی کہ میں کوئی منٹ بھر یہ الفاظ تک اپنی زبان سے نہ نکال سکا۔اس کے بعد بستر میں میں لیٹ گیا اور لحاف کے اندرر بڑ کی دو گرم بوتلیں رکھیں مگر کسی طرح سردی کم ہونے میں نہ آئی جب صبح ہوئی اور میں نے تھرما میٹر لگا کر دیکھا تو درجہ حرارت ساڑھے ننانوے تھا۔دن بھر آرام رہا مگر جب عصر کا وقت آیا تو مجھے اپنی طبیعت خراب 2