نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 129

نظام نو — Page 43

کو تو ابھارا جائے لیکن باقی اقوام کو دبا کر اُنکی دولت سے جرمن ، رومی اور ہسپانوی باشندوں کو مالا مال کیا جائے۔اب اس آخری تحریک میں جاپان بھی آکر شامل ہو گیا ہے۔اس تحریک کے اصولی نقائص یہ ہیں : - پہلا نقص اوّل یہ تحریک چند اقوام کی بہتری کے حق میں ہے ساری دنیا کی بہتری کے حق میں نہیں ہے۔دوسر انقص دوم اس تحریک میں بھی روحانی سکھ یعنی مذہب کے لئے کوئی راستہ نہیں رکھا گیا بلکہ یہ بھی مذہب پر کئی قسم کی پابندیاں عائد کرتی ہے حالانکہ وہ مذہب ہی کیا ہے جس پر انسانوں کی طرف سے پابندیاں عائد کی جاسکیں۔مذہب تو خدا کی طرف سے نازل کیا جاتا ہے اور وہی اس کی حدود مقرر کرتا ہے۔تیر انقص تیسرے اس تحریک میں انفرادیت کو اتنا ابھارا گیا ہے کہ ملک کی اجتماعی آواز کو اس کے مقابلہ میں بالکل دبا دیا گیا ہے حالانکہ ہزاروں دفعہ ایسا ہوسکتا ہے کہ ایک آدمی کا دماغ خواہ کتنا ہی اعلیٰ ہو جو بات اس کے دماغ میں آئے اُس سے دوسروں کی رائے خواہ اُن کے دماغ اعلیٰ نہ ہوں بہتر ہو اسی لئے ہماری شریعت نے یہ قرار دیا ہے کہ مسلمانوں کا ایک خلیفہ ہو جو اہم امور میں مسلمانوں سے مشورہ لے اور جہاں تک ہو سکے اُن کے مشورہ کو قبول کرے ہاں اگر کوئی اختلاف ایسا اہم ہو جس میں وہ یہ سمجھتا ہو کہ اگر میں نے اس وقت عام لوگوں کی رائے کی تقلید کی تو ملک اور 43