نظام نو — Page 17
منشویک۔بالشویک نام اس لئے رکھا گیا کہ بالشویک کے معنے کثرت کے ہیں چونکہ لیٹن کے ساتھ آدمیوں کی کثرت تھی اس لئے اس کی پارٹی بالشویک کہلائی اور منشویک کے معنے کم سے ہیں چونکہ اسکے مخالف کم تھے اس لئے مارٹو و کی پارٹی مینشو یک کہلائی۔نظام حکومت کے متعلق لیٹن اور مارٹو کے نظریوں میں اختلاف پہلا اختلاف لیکن زیادہ تر مارکس کا متبع تھا اس نے یہ اصول مقرر کیا ہوا تھا کہ ہمیں ہر دوسری پارٹی سے علیحدہ رہنا چاہیئے اس کے بغیر ہم اپنے مقاصد کو صحیح طور پر نہیں پاسکیں گے لیکن مارٹو و کا یہ خیال تھا کہ طاقت حاصل کرنے سے پہلے ہمیں دوسرے مقتدر عناصر سے جو کہ فعال ہیں تعاون رکھنا چاہئے۔غرض لیفن کی تھیوری یہ تھی کہ ہم دوسروں سے کوئی تعلق نہیں رکھتے ہم جو کچھ لائینگے اپنے زور سے لائینگے۔کسی کے زیرا احسان ہو کر نہیں لا ئینگے دوسرے الفاظ میں لینن کی پالیسی یہ تھی کہ ہم دوسروں سے نہیں ملیں گے ہمارے پاس سچائی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ہم بالآخر جیت جائینگے۔دوسرا اختلاف پھر لیٹن کا یہ خیال تھا کہ شروع میں ڈکٹیٹر شپ کے بغیر گزارہ نہیں چل سکتا لیکن مارٹو و کا یہ خیال تھا کہ شروع سے ہی جمہوری حکومت قائم ہونی چاہیئے۔مارٹو و سمجھتا تھا کہ اگر لیڈر بنا تو لینن ہی بنے گا میں نے نہیں بننا اس لئے وہ شروع سے ہی جمہوری حکومت قائم کرنا چاہتا تھا۔17