نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 129

نظام نو — Page 95

شور مچائیں تو کہتے ہیں کہ یہ امیر تو روز ناچتے ہیں مگر ہم غریبوں کے ناچنے کا کوئی سامان نہیں اور حکومت کہتی ہے بہت اچھا آئیندہ گورنمنٹ خود تمہارے لئے ڈانس روم بنائیگی چنانچہ وہ امیروں سے کہتی ہے امیر والا ؤ روپیہ کہ ہم تمہارے غریب بھائیوں کے لئے بھی ناچ گھر بنوا دیں مگر اسلام کہتا ہے ہرگز نہیں ڈانس روم بنانے سے انسانیت تباہ ہوتی ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ تمہاری انسانیت میں نقص واقع ہو اس لئے بجائے اس کے کہ ہم تمہارے لئے ڈانس روم بنا ئیں ہم تمہارے امیر بھائیوں کے ڈانس روم بھی گرا دینگے تا کہ وہ بھی انسانیت کے حلقہ میں داخل ہوں اور تہذیب و شائستگی کے خلاف کسی حرکت کے مرتکب نہ ہوں۔اسلام کا تعیش کے سامانوں کو مٹا کر امراء اور غرباء میں مساوات قائم کرنا تو جو چیزیں ضروریات زندگی میں سے نہیں بلکہ تفتیش کے سامانوں میں سے ہیں اسلام نے ان کو مٹا کر غرباء اور امراء میں مساوات قائم کی ہے اور ظاہر ہے کہ یکساں تعیش کے سامان پیدا کر نیوالی حکومتیں ہمسایوں کو لوٹنے سے باز نہیں رہ سکتیں لیکن یکساں سادگی پیدا کرنے والی حکومتیں دوسروں کولوٹنے کی جگہ اپنے امراء کو سادہ زندگی کی طرف لانے کی کوشش کریں گی اور یہ بھی ظاہر ہے کہ سادہ زندگی کو محدود کرنا آسان ہے لیکن تعیش کو محدود کرنا بہت مشکل ہے۔پس اسلامی تعلیم یقینا عقلی طور پر کامیابی کے زیادہ قریب ہے اور اس طرح اسلام تھوڑے سے روپیہ سے کام لے کر غرباء کی بے چینی دور کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔غرض آجکل کی حکومتیں سمجھتی ہیں کہ آرام کے معنی یہ ہیں کہ نتیش کے سامان غریبوں کو دینا اور اسلام کہتا ہے کہ آرام کے معنی یہ ہیں کہ ضرورت کے سامان غریبوں کو دینا اور تعیش کے سامان امیروں غریبوں سب سے چھینا، پس جتنے روپیہ سے عیسائیت دنیا کو آرام پہنچا سکے گی اس سے بہت کم روپیہ سے اسلام دنیا کو آرام پہنچا سکے گا۔چنانچہ اسلام میں مردوں کے لئے ریشم پہنا منع ہے، اسی طرح گھروں میں استعمال کے لئے چاندی سونے کے برتن رکھنا نا جائز ہے، بڑی بڑی عمارتیں بلا وجہ اور بلا ضرورت بنا نامنع 95