نظام نو — Page 5
موجودہ زمانہ کے اُمراء اور غرباء کے آپس کے امتیازات اور ان کا نتیجہ ب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ دنیا میں ادنیٰ و اعلیٰ محروم و با نصیب اور حاجت مند اور غنی میں جو امتیاز نظر آرہا ہے اس کی وجہ سے دو تغیر پیدا ہورہے ہیں۔ایک تغیر تو یہ پیدا ہورہا ہے کہ یہ امتیاز زیادہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے اور دوسرا تغیر یہ پیدا ہورہا ہے کہ اس تغیر کا احساس دنیا میں بڑھتا جارہا ہے۔پہلے بھی امیر ہوتے تھے مگر پہلے امیروں اور آجکل کے امیروں میں بہت بڑا فرق ہے۔پہلے زمانہ کے جو امراء ہوتے تھے اور جن کی اولاد کا اب بھی کچھ بقیہ پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے اُن کی یہ حالت تھی کہ اُن کے پاس کثرت سے رو پید اور غلہ اور دوسری جنسیں آتی تھیں اور وہ بھی کثرت کے ساتھ ان اشیاء کو لوگوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔پنجاب کے ایک رئیس ایک دفعہ لاہور میں بیمار ہوئے میں بھی اتفاق سے کسی کام کے لئے لاہور جا نکلا وہاں مجھے معلوم ہوا کہ ایک ایک وقت میں بعض دفعہ اُن کے علاقہ سے تین تین چار چار سو آدمی اُن کی تیمار داری کے لئے آتے ہیں اور آنے والوں میں سے کسی کے پاس دُنبہ ہوتا ہے، کسی کے پاس چاول ہوتے ہیں، کسی کے پاس گڑ ہوتا ہے، کسی کے پاس کوئی چیز ہوتی ہے محض اس لئے کہ سردار صاحب بیمار ہیں خالی ہاتھ کس طرح جائیں۔انہوں نے بھی دس پندرہ باورچی رکھے ہوتے تھے جب جانور وغیرہ آتے تو وہ اُن کو ذبح کروا دیتے اور دیکھیں پکوا کر لوگوں کو کھلا دیتے۔اس طرح اُن کی بیماری کی وجہ سے اچھا خاصہ مجمع دو تین مہینے تک لگارہا اور برابر وہ ان سینکڑوں لوگوں کو کھانا کھلاتے رہے۔گذشتہ زمانہ کے مقابلہ میں موجودہ زمانہ کے اُمراء اور اُن کے ملازمین کی حالت پس بیشک پہلے زمانہ میں بھی مالدار ہوتے تھے مگر اُن کا مال اس رنگ میں تقسیم ہوتا تھا کہ لوگوں کو بُر انہیں لگتا تھا۔پھر اُس زمانہ میں نوکر کا مفہوم بالکل اور تھا مگر آج کچھ اور ہے۔اُس زمانہ 5