نظام نو — Page 75
گھروں میں بیٹھ رہتے۔تم کہتے ہو وہ درختوں کے پتے کھایا کرتے تھے مگر ہم نے انہیں یہ آدمیت سکھائی اب کیا ہمارا حق نہیں کہ ہم ان پر حکومت کریں۔ہم کہتے ہیں اگر وہ درختوں کے پتے یا پھل ہی کھایا کرتے تھے تو تمہارا کیا حق تھا کہ تم اُنکے ملک پر قبضہ کرتے انہیں کیک کھلاتے۔پس هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا کہہ کر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ دنیا میں جو کچھ ہے اس میں ساری دنیا کا حصہ ہے یہ نہیں جیسے آجکل ساؤتھ افریقہ میں قانون بنادیا گیا ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی غیر شخص داخل نہ ہو ، اسی طرح امریکہ والوں نے قانون بنا دیا ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی اور شخص داخل نہ ہو حالانکہ ساؤتھ افریقہ کا فائدہ ساری دنیا کو حاصل ہونا چاہئے اسی طرح امریکہ کا فائدہ ساری دنیا کو حاصل ہونا چاہئے یہ نہیں کہ صرف ساؤتھ افریقہ اور امریکہ والے ہی ان سے فائدہ اٹھا ئیں باقی دنیا محروم رہ جائے۔کانوں کی دریافت کے متعلق اسلام کا حکم اسی طرح اسلام نے اُن مالدار لوگوں کے ظلم کو بھی رد کر دیا ہے جوطبعی وسائل سے کام لے کر دولت جمع کرتے ہیں اور ان میں باقی دنیا کا حصہ قرار دیا ہے اگر وہ طبعی وسائل سے کام نہ لیں تو کبھی اسقدر مالدار نہیں ہو سکتے مگر اب وہ دولت کے زور سے کانوں پر قبضہ کر لیتے ہیں اور اس طرح دوسروں کے حقوق کو تلف کرنے کا موجب بنتے ہیں۔اسلام نے اس کا علاج یہ تجویز کیا ہے کہ کانوں میں سے پانچواں حصہ گورنمنٹ کا مقرر کیا ہے اور پھر جو مال کانوں کے مالک جمع کریں اور اُس پر سال گذر جائے اس پر زکوۃ الگ ہے۔گویا اسطرح حکومت کانوں میں حصہ دار ہو جاتی ہے اور غرباء کے لئے ایک کافی رقم جمع ہو جاتی ہے جس سے اُن کے حقوق ادا کئے جاسکتے ہیں اور وہ نقص پیدا نہیں ہوتا جو کانوں کی دریافت کی وجہ سے نظام تمدن میں واقع ہوتا ہے۔75