نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 129

نظام نو — Page 74

دوسرے ایسے راستے کھلے رکھے گئے تھے جن سے بعض افراد کے ہاتھ میں تمام دولت آجائے۔تیسرے ایسے راستے کھلے تھے کہ جن کے ہاتھ میں دولت آجائے وہ پھر نکلے نہیں۔چوتھے بے مصرف فنون پر روپیہ خرچ کیا جاتا اور اُس کا نام آرٹ رکھا جاتا ہے ان میں سے بعض کسی جگہ اور بعض کسی جگہ رائج ہیں اور بعض سب جگہ رائج ہیں۔اسلام نے ان سب خرابیوں کے دروازے بند کر کے ترقی کے نئے رستے کھولے ہیں۔چنانچہ اسلام نے ان سب امور کا ان طریقوں پر علاج کیا ہے:۔باطنی غلامی یعنی ماتحتی کی وجہ سے پیدا ہونے والے دُکھ کا علاج اسلام میں اوّل اسلام نے یہ اعلان کیا ہے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے وہ ساری دنیا کے لئے ہے۔کسی ایک کے لئے پیدا نہیں کیا۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ماں باپ بعض دفعہ مٹھائی کی تھالی اپنے کسی بچے کو پکڑاتے ہیں تو وہ اکیلا ہی اُسے کھا جانا چاہتا ہے اس پر اُس کے ماں باپ اُسے کہتے ہیں کہ یہ حصہ صرف تمہارا نہیں بلکہ تمہارے سب بھائیوں کا اس میں حق ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْأَرْضِ جَمِيعًا " اس دنیا میں جو کچھ ہے وہ سب بنی نوع انسان کی مجموعی ملک ہے جیسے ماں اپنے کسی بچہ کو مٹھائی کی تھالی دے کر کہتی ہے کہ یہ تم سب بھائیوں کا حصہ ہے۔اس اصل کے ماتحت اسلام نے امپیریلزم نیشنل سوشلزم اور موجودہ انٹر نیشنل سوشلزم سب کورڈ کر دیا ہے کیونکہ یہ فلسفے طاقتور اور عالم اور منظم قوموں کو دوسری اقوام پر تصرف کا حق دیتے ہیں۔آجکل بھی یہی بحث ہو رہی ہیکہ اگر یہ بات مان لی گئی کہ ہندوستان کو آزادی دیدی جائے تو کل افریقہ والے اپنی آزادی کا مطالبہ کریں گے حالانکہ وہ ننگے پھرتے تھے اور ہم نے انہیں تہذیب سکھائی۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر وہ ننگے پھرتے تھے تو تم اُن کا ننگ نہ دیکھتے اور اپنے 74