نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 129

نظام نو — Page 29

دفعہ ہی حصہ لے سکو گے لیکن اگر تم ایک دفعہ لوٹ لو اور پھر انہیں کمانے کی اجازت دیدو اور جب کچھ عرصہ کما چکیں تو پھر لوٹ لو تو اسطرح بار بار اُن کے مال تمہارے قبضہ میں آتے چلے جائیں گے۔پس انہوں نے کہا کہ ان بڑے بڑے تاجروں کو مال کمانے دو جب یہ مال کما کر لائیں گے تو وہ تمہیں دے دیئے جائیں گے۔بالشوزم کے خلاف پروپیگنڈے کا دوسرا ذریعہ دوسرے انہوں نے اپنے ملک کے لوگوں کو یہ بتایا کہ بالشوزم امپیریلزم کی مخالف ہے اور چاہتی ہے کہ غیر ملکیوں کی حکومت نہ ہو مگر حالت یہ ہے کہ انگریزوں نے ایک مدت تک ملکوں پر حکومت کر کے دنیا کے اموال خوب جمع کر لئے ہیں یہی حال امریکہ اور فرانس کا ہے کہ وہ دنیا کی سیاست اور اقتصاد پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں مگر جب ہماری باری آئی ہے تو اب یہ دلیلیں دی جاتی ہیں کہ اس کا یہ نقصان ہے وہ نقصان ہے ہم ان دلیلوں کو نہیں مانتے۔ہم بھی ان کی طرح غیر ملکوں پر قبضہ کرینگے اور ان کے اموال لا کر اپنے ملک کے غرباء میں تقسیم کرینگے۔غریبوں کو یہ بات طبعاً بہت اچھی لگی اور انہوں نے بھی آخر اس تحریک کی تائید کرنی شروع کر دی۔بالشوزم کے خلاف پروپیگنڈے کا تیسرا ذریعہ پھر انہوں نے اپنے ملک کے لوگوں کو بتایا کہ بالشویک تحریک خود بخود دز ور نہیں پکڑ رہی بلکہ در اصل امریکہ، فرانس اور انگلستان والے اس کی مدد کر رہے ہیں تا کہ جرمنی اور اٹلی والے ان کی دولت میں حصہ دار نہ بن سکیں۔اس سے ملک میں بالشوزم کے خلاف اور بھی جوش پیدا ہوگیا۔بالشوزم کے خلاف پروپیگنڈے کا چوتھا ذریعہ پھر انہوں نے اپنے ملک کے لوگوں کو ایک اور بات بتائی اور کہا دیکھو! اگر آج ہم اپنے 29