نظام نو — Page 16
طاقت پیدا کر دے کہ وہ امیروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کر سکیں تو اُس وقت حکومت گلی طور پر جمہور کے سپر دکر دینی چاہئے مگر اس سے پہلے نہیں ورنہ حکومت جاتی رہے گی۔غرباء کی بہبودی کے لئے لینن اور اُسکے ساتھیوں کی کوشش مارکس تو خیر مر گیا۔اس کے بعد جب مظالم انتہاء کو پہنچے تو ایک پارٹی ایسی کھڑی ہو گئی جس نے مارکس کی تعلیم کے مطابق لوگوں کو منظم کرنا شروع کر دیا۔انہی مختلف لوگوں میں سے جو مارکس کی تعلیم کے مطابق منظم ہوئے ایک لینن کے ہے جو روس کا پہلا عامی ڈکٹیٹر تھا لیکن اور اُس کے ساتھیوں نے مارکس کے خیالات کو زیادہ معتین جامہ پہنایا۔کچھ عرصہ تک تو یہ سب مل کر کام کرتے رہے اور غریبوں کو ابھارتے رہے کہ تم ننگے پھرتے ہو ، بھوکے رہتے ہومگر اسی ملک کے امیر ہیں جو عیش و آرام میں اپنی زندگی کے دن بسر کر رہے ہیں۔کبھی کہتے یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک ہی کارخانہ میں ایک مزدور صبح سے شام تک کام کرتا ہے اور شام کو اُسے اتنی قلیل مزدوری ملتی ہے کہ جس سے بمشکل وہ اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ بھرتا ہے مگر دوسری طرف اسی کارخانہ کے مالک کے بچے قیمتی سے قیمتی کوٹ پہنے پھرتے ہیں اور اعلیٰ سے اعلیٰ کھانے کھاتے ہیں۔اس طرح انہوں نے تمام ملک میں جوش پیدا کر دیا اور امراء کے خلاف کئی پارٹیاں بن گئیں۔بالشویک و منشویک پارٹیوں کا آغاز جب اُن کا اقتدار بڑھ گیا اور انہوں نے سمجھا کہ اب ہم ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ جلد ہی ہم کو حکومت مل جائیگی تو انہوں نے ایک میٹنگ کی اور اس کی غرض یہ قرار دی کہ ہم اپنے لئے ایک معین راستہ قائم کر لیں کہ ہم نے حکومت ملنے پر کس طرح کام کرنا ہے۔اس میٹنگ کے دوران میں آپس میں اختلاف پیدا ہوگیا اور مارٹو و جولین کی طرح پارٹی میں مقتدر تھا اس کا لین سے اختلاف ہو گیا چنانچہ دو پارٹیاں بن گئیں جن میں سے ایک بالشویک کہلائی اور دوسری 16