نظام نو — Page 121
طبقہ سے ان کو محوظ رکھ کر گفتگو کرو میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ دلائل ایسے ہیں جن کا کوئی جواب ان تحریکات کے مویدین کے پاس نہیں۔دُنیا میں اگر امن قائم ہوسکتا ہے تو اسی ذریعہ سے جس کو آج میں نے بیان کیا ہے۔اسی طرح آج سے اٹھارہ سال پہلے ۱۹۲۴ء میں امنِ عامہ کے قیام کے متعلق خدا تعالے نے میرے ذریعہ سے کتاب ”احمدیت میں ایک ایسا عظیم الشان انکشاف کیا کہ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ ایسا عظیم الشان اظہار گزشتہ تیرے سوسال میں پہلے مفسرین میں سے کسی نے نہیں کیا اور یقینا وہ ایسی تعلیم ہے کہ گو اس قسم کا دعویٰ کرنا میری عادت کے خلاف ہے مگر میں یقینی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ اس قسم کا انکشاف سوائے نبیوں اور ان کے خلیفوں کے آج تک کبھی کسی نے نہیں کیا اگر کیا ہو تو لاؤ مجھے اُس کی نظیر دکھاؤ۔وصیت کرنے والا نظام تو کی بنیادر کھنے میں حصہ دار پس اے دوستو ! جنہوں نے وصیت کی ہوئی ہے سمجھ لو کہ آپ لوگوں میں سے جس جس نے اپنی اپنی جگہ وصیت کی ہے اُس نے کی بنیا درکھ دی ہے اُس کی جو اس کی اور اس کے خاندان کی حفاظت کا بنیادی پتھر ہے اور جس جس نے تحریک جدید میں حصہ لیا ہے اور اگر وہ اپنی ناداری کی وجہ سے اس میں حصہ نہیں لے سکا تو وہ اس تحریک کی کامیابی کے لئے مسلسل دُعائیں کرتا ہے اُس نے وصیت کے نظام کو وسیع کرنے کی بنیاد رکھ دی ہے۔پس اے دوستو! دُنیا کا نیا نظام دین کو مٹا کر بنایا جا رہا ہے تم تحریک جدید اور وصیت کے ذریعہ سے اس سے بہتر نظام دین کو قائم رکھتے ہوئے تیار کرومگر جلدی کرو کہ دوڑ میں جو آگے نکل جائے۔وہی جیتتا ہے۔جلد سے جلد وصیتیں کرنے کی ضرورت پس تم جلد سے جلد وصیتیں کرو تا کہ جلد سے جلد کی تعمیر ہو اور وہ مبارک دن آ جائے جبکہ چاروں طرف اسلام اور احمدیت کا جھنڈا لہرانے لگے اس کے ساتھ ہی میں اُن سب دوستوں 121