نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 129

نظام نو — Page 6

میں نوکر خاندان کا جد و سمجھے جاتے تھے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض قسم کے امتیازات اُس وقت بھی پائے جاتے تھے مثلاً نوکر سے شادی کرنا یا اُسے لڑکی دینا پسند نہیں کیا جاتا تھا مگر پھر بھی وہ اس رنگ میں پاس رہتے تھے کہ مثلاً مالک بھی فرش پر بیٹھا ہوا ہے اور اُس کا نو کر بھی ساتھ ہی بیٹھا ہوا ہے یا مالکہ بیٹھی ہے تو اُس کے ساتھ اس کی لونڈی بھی بیٹھی ہے مگر اب یہ ہوتا ہے کہ مالک تو کرسی پر بیٹھا ہوا ہوتا ہے اور نو کر ہاتھ باندھے سامنے کھڑا ہوتا ہے وہ چاہے تھک جائے اس کی مجال نہیں ہوتی کہ آقا کے سامنے بیٹھ جائے۔اسی طرح سواریوں کو لے لو پہلے اُن میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا تھا۔یہ تو ہو جاتا تھا کہ ایک کا گھوڑا زیادہ قیمت کا ہو گیا اور دوسرے کا کم قیمت کا مگر آجکل تھرڈ کے مقابلہ میں فسٹ اور سیکنڈ کلاس کا جو فرق ہے وہ بہت زیادہ نمایاں ہے۔اسی طرح مکانوں کی ساخت میں اتنا فرق پیدا ہو گیا ہے کہ غرباء کے مکانوں اور اُمراء کے مکانوں میں زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔فرنیچر کی اتنی قسمیں نکل آئی ہیں کہ کوئی غریب ان کو خرید ہی نہیں سکتا۔جب تک امراء قالین بچھاتے رہے غرباء اس کے مقابلہ میں کوئی سستا سا قالین یا کپڑا ہی بچھا لیتے مگراب فرنیچر کی اتنی قسمیں ہو گئی ہیں کہ ادنیٰ سے ادنی فرنیچر بھی غریب آدمی خرید نہیں سکتا۔پہلے تو امیر لوگوں نے اگر قالین بنائے تو کشمیریوں نے گبھا بنالیا۔مگر اب گوچ اور کرسیوں اور میزوں وغیرہ میں امراء کی نقل کرنا غرباء کی طاقت برداشت سے بالکل باہر ہے۔غرض بڑوں اور چھوٹوں میں یہ امتیاز اس قدر ترقی کر گیا ہے کہ اب یہ امتیاز آنکھوں میں چھنے لگ گیا ہے۔غربت و امارت کے متعلق پرانے نظریہ کے مقابلہ پر نیا نقطہ نگاہ اور اُس کا نتیجہ پھر ایک یہ بھی فرق ہے۔کہ اب احساسات بھی تیز ہو گئے ہیں۔پہلے زمانہ میں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ سب دولت اللہ میاں کی ہے۔اگر کوئی بھوکا ہے تو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے بھوکا رکھا اور اگر کسی کو روٹی ملتی ہے تو اِس لئے کہ اللہ اس کو روٹی دیتا ہے۔مگر اب تعلیم اور فلسفہ کے عام ہو جانے کی وجہ سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر غریب بھوکے ہیں تو اس لئے نہیں کہ 6