نظام نو — Page 50
نہیں بلکہ وہاں کے متعلق یہ حکم ہے کہ :۔اُن قوموں کے شہروں میں جنہیں خداوند تیرا خدا تیری میراث کر دیتا ہے۔کسی چیز کو جو سانس لیتی ہے جیتا نہ چھوڑیو بلکہ تو ان کو حرام کیجئیو۔“ یہ نظام ہے جو یہودیت پیش کرتی ہے۔اگر یہودیت برسراقتدار آ جائے تو ہر مرد مارا جائیگا ، ہر عورت اور بچے کو غلام بنایا جائیگا اور کنعان میں بسنے والے عیسائی مرد اور عورتیں اور بچے تو کیا وہاں کے گھوڑے اور گدھے اور کتے اور بلیاں اور سانپ اور چھپکلی سب مارے جائیں گے کیونکہ حکم یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو سانس لیتی ہو اس کو جان سے مار دیا جائے۔اس نظام کے ماتحت یہودیوں کو تھوڑا بہت آرام میسر ہو تو ہو اور قو میں تو بالکل تباہ ہو جائیں گی۔عیسائیت کا دنیا کے لئے پیغام عیسائیت کا پیغام دنیا کے لئے صرف یہی ہے کہ شریعت ایک لعنت ہے۔جب شریعت لعنت ہے تو پھر اس کا جو بھی پیغام ہے وہ لعنت ہے، عیسائیت صرف محبت کی تعلیم دیتی ہے جس پر خود عمل نہیں کرتی۔اگر اس کی محبت کی تعلیم پر کوئی عمل کرنے والا ہوتا تو آج یورپ میں لڑائیاں کیوں ہوتیں۔شریعت کو لعنت قرار دے کر دنیا کے لئے کوئی معین پروگرام پیش کرنا مسیحیت کے لئے ناممکن ہے کیونکہ جو بھی پروگرام ہوگا وہ لعنت ہوگا اور اس پر عمل لوگوں کی مشکلات کو بڑھائیگا کم نہیں کریگا۔پھر یہ عجیب بات ہے کہ اُس کے نز د یک خدا کی شریعت خواہ وہ کتنی ہی مختصر کیوں نہ ہولعنت ہے لیکن بندوں کی تعزیرات خواہ کتنی بڑی ہوں رحمت ہیں۔اس کا نتیجہ یہ پیدا ہوا ہے کہ دنیا میں جو مسیحی قوم بھی غالب ہو اس کے مقاصد کو مسیحی مقاصد کہا جاتا ہے۔جو فلسفہ غالب آ جاۓ وہ مسیحی فلسفہ ہوتا ہے اور جو تمدن غالب آ جائے وہ مسیحی تمدن ہوتا ہے۔اگر جرمن غالب ہوا تو وہ کہہ دیں گے کہ کرسچن سوشلزم غالب آ گیا۔اگر انگلستان غالب ہوا تو کہہ دینگے کرسچن 50