نظام نو — Page 15
ہیں اور تو آٹھ دس روپیوں پر گزارہ کر رہا ہے اپنے آقا سے کہتا کیوں نہیں کہ میری تنخواہ زیادہ کرو۔وہ کہنے لگا میں کس طرح کہوں؟ اُس نے کہا تو کوئی غلام ہے اگرہ وہ تیری تنخواہ بڑھائے تو بہتر نہیں تو کسی اور جگہ ملازمت کر لینا۔آخر بہت کچھ سمجھانے پر وہ تیار ہو گیا اور اس نے دل میں عہد کر لیا کہ آج جب آقا آیا تو اُسے صاف صاف کہہ دوں کہ یا تو میری تنخواہ بڑھائی جائے ورنہ میں نوکری چھوڑتا ہوں۔اُس کا آقا اُسوقت سواری پر کہیں باہر گیا ہوا تھا جب واپس آیا تو سائیس اُس کے سامنے جا کھڑا ہوا اور کہنے لگا صاحب! ایک بات سُن لیجئے۔اُس نے کہا کیا ہے؟ کہنے لگا سب کو تنخواہیں زیادہ ملتی ہیں اور میری تنخواہ بہت کم ہے پس یا تو میری تنخواہ بڑھائیں ورنہ۔جب اُس نے کہا کیا تو میری تنخواہ بڑھائیں ورنہ تو اُسکے آقا نے کوڑا اٹھا کر اُسے مارا اور کہا۔ورنہ کیا؟ کہنے لگا ور نہ آٹھ پر ہی صبر کرینگے اور کیا کرینگے۔گویا یکدم اس کو ساری باتیں بھول گئیں۔یعنی یا تو وہ یہ کہنا چاہتا تھا کہ ورنہ میں نوکری چھوڑ دونگا اور یا ایک کوڑا پڑتے ہی یہ کہنے لگا ورنہ پھر آٹھ پر ہی صبر کریں گے اور کیا کرینگے۔لمبے عرصہ کی غلامی کا نتیجہ تو ایک لمبے عرصہ کی غلامی کے بعد انسان کی فطرت بالکل بدل جاتی ہے۔میں نے دیکھا ہے چوہڑوں اور چماروں کو کتنا ہی اٹھانے کی کوشش کرو اور کتنی ہی دیر اُن سے باتیں کرتے رہو۔آخر میں وہ یوں مسکرا کر کہ جیسے ہمارا دماغ پھر گیا ہے کہیں گے کہ رب نے جس طرح بنایا ہے اس میں اب کیا تغیر ہو سکتا ہے۔گویا اُن کے نزدیک جس قدر مصلح اور ریفارمر ہیں سب کے دماغ خراب ہیں۔یہی کارل مارکس نے کہا کہ ان لوگوں کی حالت بدلنے والی نہیں اگر عوام کو اختیار دے دیئے گئے تو وہ پھر ڈر کر ہتھیار رکھ دیں گے اس لئے شروع میں مزدوروں کے زبر دست ہمدردوں میں سے کسی کو ڈکٹیٹر شپ دینا ضروری ہے۔وہ جب عوام کو منظم کرلے مزدوروں کے اندر بیداری پیدا کر دے اُن کے مختلف طبقات کے امتیازات کو مٹا دے اور اگلی نسل میں ایسی 15