نظام خلافت — Page 20
20 اسلامی خلافت کا نظام یعنی خلافت راشدہ قائم رہی اسلام کو ترقی اور غلبہ نصیب ہوا۔اور جب مسلمان اپنی بدعملیوں کی پاداش میں اس خدائی انعام سے محروم ہوئے تو اس کے ساتھ ہی ان کی کامیابیوں اور کامرانیوں کا سورج بھی ڈھل گیا۔ہمارے آقا ومولا حضرت محمد مصطفی علیہ کے وصال مبارک کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلى مِنْهَاجِ النَّبُوَّةِ کے مطابق مسلمانوں کو خلافت سے نوازا تو خلافت راشدہ کے اس بابرکت دور میں جو اگر چہ صرف میں سال پر محیط تھا اسلام کی شان و شوکت نہ صرف جزیرۂ عرب میں بلکہ دنیا کے طول وعرض میں قائم ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے جماعت مومنین کو جو وعدہ عطا فر مایا تھا کہ انْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ (آل عمران: آیت 140) اس وعدہ کے مطابق مسلمانوں کو ہر میدان میں اور ہر جہت میں کامیابی اور غلبہ نصیب ہوا۔کہاں یہ حالت کہ وصال نبوی کے بعد فتنہ ارتداد نے نوبت یہاں تک پہنچادی تھی کہ مدینہ کے علاوہ صرف ایک یا دو جگہ پر نماز با جماعت ادا کی جاتی تھی اور پھر یہ عالم کہ تمیں سال کے اندر اندر مشرق میں افغانستان اور چین کی سرحدوں تک مغرب میں طرابلس اور شمالی افریقہ کے کناروں تک ، شمال میں بحر قزوین تک اور جنوب میں حبشہ تک اسلامی پرچم لہرانے لگا۔خلافت راشدہ میں اسلام کی اس ترقی اور غلبہ کو دیکھ کر آج بھی دنیا انگشت بدنداں ہے۔اسلام کی ترقی و عروج کا یہ وہ زمانہ تھا کہ کسی بڑے سے