نظام خلافت — Page 12
12 سامعین کرام ! آج سے چودہ سو سال قبل چشم فلک نے ایک ایسا محیر العقول نظارہ دیکھا جس کی مثال تاریخ عالم میں نظر نہیں آتی۔مطلع عالم پر آفتاب رسالت کا طلوع ہونا تھا کہ گھٹاٹوپ اندھیرے میں فرق دنیا یکدفعہ جمعہ نور بن گئی۔باعث تخلیق کائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ کے بابرکت ظہور سے گمراہی کے خلاؤں میں بھٹکنے والی انسانیت نے فلاح کی راہ پالی۔دینِ اسلام کی صورت میں فیضان الہی کا ایسا چشمہ رواں ہوا کہ صدیوں کی پیاسی دھرتی سیراب ہوگئی اور بنجر زمینیں روحانیت کی سدا بہار کھیتیوں سے لہلہانے لگیں۔ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعاؤں نے سارے عالم عرب میں ایک عظیم الشان روحانی انقلاب بر پا کر دیا۔صدیوں کے مردے روحانی طور پر زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پکڑ گئے۔آنکھوں کے اندھے بینا ہو گئے اور گونگوں کی زبانوں پر انہی معارف جاری ہو گئے۔دنیا میں یکدفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔انسانِ کامل کی صورت میں خدا تعالیٰ کے مظہر اتم کا یہ حسین جلوہ اپنی معراج پر تھا کہ ہمارے محبوب آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کے وصال کا وقت آن پہنچا۔آپ کی رحلت پر وفا کیش صحابہ پر کیا گزری، ان کی حالت غم کا اندازہ کرنا کچھ آسان بات الله نہیں۔لوگوں کی زبان پر بے اختیار یہ مضمون جاری ہوا کہ مدینہ نبی کریم ﷺ کے قدوم میمنت لزوم سے ماہتاب کی طرح روشن ہو گیا تھا اور آج حضور اکرم ﷺ کی وفات پر اس سے زیادہ تاریک مقام بھی ہماری آنکھوں نے نہیں دیکھا۔