نظام خلافت — Page 83
83 کے بارہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے بیان فرمایا ہے: ” خلیفہ خود اللہ تعالیٰ بناتا ہے اور اس کے انتخاب میں کوئی نقص نہیں۔وہ اپنے ایک کمزور بندے کو چلتا ہے جسے وہ بہت حقیر سمجھتے ہیں۔پھر اللہ تعالی اس کو چن کر اس پر اپنی عظمت اور جلال کا ایک جلوہ کرتا ہے اور جو کچھ اس کا تھا اس میں سے وہ کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیتا اور خدا تعالی کی عظمت اور جلال کے سامنے کلی طور پر فنا اور بے نفسی کا لبادہ وہ پہن لیتا ہے اور اس کا وجود دنیا سے غائب ہو جاتا ہے اور خدا کی قدرتوں میں وہ چھپ جاتا ہے تب اللہ تعالیٰ اسے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیتا ہے۔“ روزنامه الفضل ربوہ ، ۱۷ مارچ ۱۹۶۷) قبولیت دعا کا جو مقام خلیفہ وقت کو عطا کیا جاتا ہے اسکی حکمت حضرت مصلح موعودؓ نے ان الفاظ میں بیان فرمائی۔فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کسی کو منصب خلافت پر سرفراز کرتا ہے تو اس کی دعاؤں کی قبولیت کو بڑھا دیتا ہے کیونکہ اگر اس کی دعائیں قبول نہ ہوں تو پھر اس کے اپنے انتخاب کی ہتک ہوتی ہے“۔انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۴۷۔منصب خلافت صفحه ۳۲) خلیفہ وقت کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے نور، علم ومعرفت اور