نظام خلافت — Page 82
82 انعام خلافت پر شکر کی نعمت پر ہم اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر کریں کم ہے۔ہمارے وجود کا ذرہ ذرہ سراپا شکر بن جائے تو تب بھی ہم اس نعمت عظمی کے شکر کا حق ادا نہیں کر سکتے۔پس اس تعلق میں ہماری سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اس نعمت کی عظمت کا صحیح ادراک اور احساس پیدا کریں اور دل کی گہرائی سے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہیں اور اپنے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس نعمت کا شکر ادا کرنے کی توفیق دیتا رہے۔اور اس کو قبول کرتے ہوئے اپنے وعدہ کے مطابق خلافت کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر قائم رکھے۔آمین خلیفہ وقت سے ذاتی تعلق نبی کی نیابت کے حوالہ سے خلیفہ کا مقام بہت بلند ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ جب کسی فرد کو تاج خلافت سے سرفراز فرماتا ہے تو وہی انسان جولوگوں کی نظروں میں کل تک ایک عام انسان تھا اللہ تعالیٰ کے نور سے منور ہو کر ایک نورانی وجود بن جاتا ہے۔وہ مہبط انوار ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے وجود سے دنیا میں خدا کا نور پھیلنے لگتا ہے اور وہ اس انتشار روحانیت کا مرکز بن جاتا ہے۔اس بلند مقام پر فائز ہونے کے بعد خدا تعالیٰ سے اس کا ایسا قریبی تعلق پیدا ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کو قبولیت دعا کا اعجاز عطا کرتا ہے خدا تعالیٰ خود اس کا معلم بن کر اسے علوم روحانی عطا فرماتا ہے۔اس عظیم الشان تبدیلی