نظام خلافت — Page 51
51 گا جیسا کہ اُس نے اُن سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور اُن کے دین کو، جو اُس نے اُن کے لئے پسند کیا، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور اُن کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔وہ میری عبادت کریں گے۔میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔اور جو اُس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نا فرمان ہیں۔“ ( النور : ۵۶) یہ آیت بڑے لطیف مضامین پر مشتمل ہے۔اس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے جماعت مومنین میں قیام خلافت کا حتمی وعدہ فرمایا ہے اور اسے ایمان اور عمل صالح کی دو شرائط کے ساتھ باندھا ہے۔کی دو عظیم الشان برکات کا ذکر فرمایا ہے دین کی تمکنت اور خوف کی حالت کا امن کی حالت میں تبدیل کیا جانا۔اور یہ بھی ذکر ہے کہ کے قیام کے بلند ترین مقاصد اور شیر میں ثمرات بھی دو ہیں عبادت الہی اور توحید خالص کا حقیقی طور پر قیام۔خلیفہ کا بلند مقام خلافت کی عظمت اور اس کی عظیم الشان برکات سے یہ امر واضح ہے کہ جو خلیفہ اس آسمانی نظام قیادت کا مظہر ہو گا اس کا مقام کس قدر بلند ہوگا۔خلافت نبوت کا تتمہ ہے