نظام خلافت — Page 56
56 خلافت احمدیہ کا قیام اصدق الصادقین حضرت محمد مصطفے ﷺ کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی ایک ایک بات بعینہ پوری ہوئی۔آپ کے بعد خلافت راشدہ کا نظام قائم ہوا۔جس کے بعد تکلیف دہ حکومت کا دور آیا۔پھر جابر بادشاہت کے ادوار آئے اور جب پہلی تین اچھی صدیوں کے بعد فیج اعوج کے ہزار سال کا عرصہ بھی گزر گیا اور چودھویں صدی کا آغاز ہوا جس میں قرآنی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت مسیح موعود اور امام مہدی علیہ السلام کی آمد مقدر تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے رسول پاک ﷺ کی کامل اطاعت اور غلامی کی برکت سے امتی نبی ہونے کا بلند روحانی منصب عطا فرمایا تو اس حدیث کے عین مطابق جماعت احمدیہ کو مسیح پاک علیہ السلام کے وصال کے بعد خلافت علی منھاج نبوت کا عظیم الشان انعام عطا فر مایا گیا جس سے اس حدیث میں مذکور پیشگوئی بعینہ سچی ثابت ہوئی۔یہ بات اسلام اور رسول پاک ﷺ کی صداقت کا ایک زندہ و تابندہ ثبوت بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ فعلی شہادت بھی ساری دنیا کو مہیا فرما دی کہ آج دنیا کے پردہ پر اگر کوئی جماعت اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اپنے دعوئی ایمان میں بچی ہے اور اگر کوئی جماعت ایسی ہے جس کے اعمال اللہ تعالیٰ کی نظر میں اعمالِ صالحہ ہیں تو وہ ایک اور فقط ایک جماعت ہے جواحد یہ مسلم جماعت عالمگیر ہے۔الله اس جگہ یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ اس حدیث کے آخر میں ذکر ہے کہ خلافت