نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 80 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 80

۵۹ کو درس القرآن کے دوران احباب جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:۔اللہ جل شانہ کی کچی فرمانبرداری اختیار کرو۔اس کی اطاعت کرو، اس سے محبت کرو، اس کے آگے تذلل کرو، اس کی عبادت کرو اور اللہ کے مقابل کوئی غیر تمہارا مطاع، محبوب، مطلوب، امیدوں کا مرجع نہ ہو۔اللہ کے مقابل تمہارے لئے کوئی دوسرا نہ ہو۔ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کا حکم تمہیں ایک طرف بلاتا ہو اور کوئی اور چیز خواہ وہ تمہارے نفسانی ارادے اور جذبات ہوں یا قوم اور برادری ( سوسائٹی ) کے اصول اور دستور ہوں ، سلاطین ہوں، امراء ہوں، ضرورتیں ہوں، غرض کچھ ہی کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابل میں تم پر اثر انداز نہ ہو سکے۔پس خدا تعالیٰ کی اطاعت، عبادت، فرمانبرداری ، تذلل اور اس کی محبت کے سامنے کوئی اور شئے محبوب، مقصود و مطلوب اور مطاع نہ ہو۔(بحوالہ روز نامه الفضل ۲۵ جولائی ۱۹۹۳ء) حضرت حکیم مولانا نورالدین کی وفات کے بعد جب حضرت مرزا بشیر الدین محمود مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو آپ نے اپنی خلافت کے پہلے جلسہ سالانہ پر ۲۸ دسمبر ۱۹۱۴ء کو جو تقریر فرمائی اس میں بڑے زور دار الفاظ میں جماعت کو توحید الہی پر قائم ہونے اور شرک سے کلیۂ اجتناب کی تلقین کی۔چنانچہ آپ نے فرمایا:۔میں تمہیں بڑے زور سے بتلاتا ہوں کہ دنیا میں لوگ خدا تعالیٰ سے غافل ہو گئے ہیں۔حالانکہ اس سے بڑھ کر خوبصورت ، اس سے بڑھ کر محبت کرنے والا ، اس سے بڑھ کر پیارا اور کوئی نہیں ہے۔تم لوگ اگر پیار کرو تو اس سے کرو محبت لگاؤ تو اس سے لگاؤ، ڈرو تو اس سے ڈرو، خوف کرو تو اس سے کرو، اگر وہ تمہیں حاصل ہو جائے تو پھر تمہیں کسی چیز کی پرواہ نہیں رہ جاتی اور کوئی روک تمہارے سامنے نہیں ٹھہر سکتی“۔برکات خلافت - انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۲۳۶)