نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 431
۴۱۰ خلافت احمدیہ پر اعتراضات کے جوابات سوال نمبر 1:۔خلافت احمدیہ پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں پہلے تو خلافت نبوت کے علاوہ خلافت ملوکیت کا بھی ذکر ہے۔پھر خلافت ملوکیت کو چھوڑ کر آیت استخلاف میں صرف خلافت نبوت کے ساتھ اس کی مشابہت کو کیوں مخصوص کیا گیا ہے؟ جواب:۔آیت استخلاف کے الفاظ بتاتے ہیں کہ گو مسلمانوں سے دوسری آیات میں بادشاہتوں کا بھی وعدہ ہے مگر اس جگہ بادشاہت کا ذکر نہیں ہے بلکہ صرف مذہبی نعمتوں کا ذکر ہے۔چنانچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمُ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمُ که خدا اپنے قائم کردہ خلفاء کے دین کو دنیا میں قائم کر کے رہتا ہے۔اب یہ اصول دنیا کے بادشاہوں کے متعلق نہیں اور نہ ان کے دین کو خدا تعالیٰ نے کبھی دنیا میں قائم کیا بلکہ یہ اصول روحانی خلفاء کے متعلق ہی ہے۔پس یہ آیت ظاہر کر رہی ہے کہ اس جگہ جس خلافت سے مشابہت دی گئی ہے وہ خلافت نبوت ہی ہے نہ کہ خلافت ملوکیت۔اسی طرح فرماتا ہے۔وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمُ اَمُنًا کہ خدا ان کے خوف کو امن سے بدل دیا کرتا ہے۔یہ علامت بھی دنیوی بادشاہوں پر کسی صورت میں چسپاں نہیں ہو سکتی۔کیونکہ دنیوی بادشاہ اگر آج تاج و تخت کے مالک ہوتے ہیں تو کل تخت سے علیحدہ ہو کر بھیک مانگتے دیکھے جاتے ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کے خوف کو امن سے بدل دینے کا کوئی