نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 307 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 307

۲۸۶ طریق ہے کہ وہ دین حق قبول کر لیں اور اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کریں۔حضور کی آواز اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعہ کروڑوں لوگوں تک پہنچ گئی اور وہ اس سے بہت متاثر ہوئے۔ان کی دین حق کے متعلق غلط فہمیاں دور ہو گئیں۔ہمیں امید ہے ( اور اس کے آثار بھی ظاہر ہورہے ہیں ) کہ اس مبارک سفر کے نتیجہ میں انشاء اللہ تعالیٰ یورپ میں دین حق تیزی کے ساتھ ترقی کرنے لگے گا۔مغربی افریقہ کا سفر ۴ ا پریل ۱۹۷۰ء کو حضور نے مغربی افریقہ کا سفر اختیار کیا۔مغربی افریقہ کے قریباً تمام ممالک میں کثرت کے ساتھ احمدی جماعتیں موجود ہیں۔حضور کے اس سفر سے ان کی برسوں کی آرزو اور تمنا پوری ہوئی اور وہ حضور کی زیارت کے شرف سے مشرف ہوئیں۔جس جگہ بھی حضور تشریف لے گئے افریقن احمدی مرد، عورتیں، بچے ، بوڑھے دور دراز کی مسافت طے کر کے حضور کی زیارت کے لئے جوق در جوق جمع ہوئے اور انہوں نے اپنی مخصوص روایات کے ساتھ دینی نظمیں پڑھ کر اور پر جوش نعرے لگا کر والہانہ رنگ میں حضور کا خیر مقدم کیا۔اور حضور کے ارشادات سن کر اپنے ایمانوں کو تازہ کیا۔اس سفر میں احمدی احباب کے علاہ افریقہ کے مختلف ممالک کے چوٹی کے سر بر آوردہ لوگوں نے حضور سے ملاقاتیں کیں اور استقبالیہ تقریروں میں شامل ہوئے اور انہوں نے جماعت احمدیہ کی عظیم الشان تبلیغی اور تعلیمی خدمات کا اعتراف کیا۔اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر بھی برابر حضور کے اس تاریخی دورہ کی تفاصیل آتی رہیں۔غرض حضور کا یہ تاریخی سفر بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت کامیاب رہا ہے اور